- ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE, Vol # 100, Issue # 4
- لاہور میں سنسکرت کی ترویج : الفریڈ کوپر وولنر کا حصہ ( نو دریافت شدہ دستاویزات کی روشنی میں )
لاہور میں سنسکرت کی ترویج : الفریڈ کوپر وولنر کا حصہ ( نو دریافت شدہ دستاویزات کی روشنی میں )
- Dr. Arsalan Rathor/
- March 03, 2025
WOOLNER’S CONTRIBUTION TO DISSEMINATION OF SANSKRIT IN LAHORE (IN THE LIGHT OF NEWLY DISCOVERED DOCUMENTS)
Keywords
Alfred Woolner was a renowned Sanskrit scholar who made significant contributions to the promotion and study of Sanskrit in Punjab. As a professor and later the Vice-Chancellor of Punjab University, Lahore, he played a crucial role in establishing Sanskrit schools in the region, ensuring that students had access to Vedic texts and classical Sanskrit literature. He organized and facilitated performances of original Sanskrit plays, helping to preserve the theatrical traditions of ancient India. Woolner also built an extensive collection of Sanskrit books, which remains the largest repository of Sanskrit literature in Pakistan today. His dedication to Sanskrit studies led him to travel across Punjab, fostering interest in the language and its rich heritage. Through his efforts, he firmly rooted Sanskrit scholarship in the land, leaving a lasting academic and cultural legacy.
حوالے
(1) Dr Banarsi Das, "A Life Sketch" included in, "WOOLNER COMMEMORATION VOLUME (In Memory of The Late Dr A.C. Wollner)" Edited by Muhammad Shafi. Lahore: Mehr Chand Lachman Das Sanskrit Book Depot, 1940. P: 02
(۲) یہ تمام معلومات مجھے The Cathedral Church of Resurrectionکے نائب پادری جناب مہتاب( لاہور ) نے مہیا کی ہیں۔
(۳) یہ اور اس نوع کی دیگر معلومات نادر کاغذات کی نقول کے ہم راہ مجھے ٹرینیٹی کالج ، آکسفرڈ کے آرکائیوسٹ کلیئر ہاپکنز نے بذریعہ ای میل پہنچائی ہیں ۔ کلیئر نے طول طویل ای میلوں سے مجھے کئی نکات ، نقشے اور جغرافیائی امتیازات سمجھنے میں معاونت کی ہے ۔
(۴) یہ معلومات مجھ تک اِپسوج اسکول کی موجودہ ڈیولپمنٹ ڈائریکٹر نِکی براﺅن کے ذریعے پہنچی ہیں۔
(۵) ایضاً
(۶) ملاحظہ ہو لنک اور عبارت : https://www.ipswich.school/briefhistory/
Among many interesting facts about Ipswich School is that it is the only school which is mentioned in any of Shakespeare’s works. The reference is in Henry VIII, Act iv, Sc. 2, in a reference to Cardinal Wolsey. Queen Catharine (Catharine of Aragon) is in her apartments at Kenilworth with her attendant, Griffith. They are speaking of Wolsey’s death and Katharine describes what she sees as the corruption of the man responsible for her divorce from the King. Griffith, however, speaks well of Wolsey and describes his commitment to education. The ‘twins of learning’ were the school in Ipswich, the Cardinal College of St. Mary, built by Wolsey to give his old school a grand home and its sister, Cardinal College, Oxford.
(۷) بہ حوالہ۳
(۸) بوڈن اسکالر شپ کے حوالے سے انٹر نیٹ جو معلومات مہیا کرتا ہے وہ لنک سمیت یہ ہیں:
The Boden Scholarship at the University of Oxford was established in 1833 to support students learning Sanskrit.
Lieutenant Colonel Joseph Boden, after whom the scholarship is named, served in the Bombay Native Infantry of the East India Company from 1781 until his retirement in 1807. He died on 21 November 1811, and his will provided that his estate should pass to the University of Oxford after his daughter's death to establish a professorship in Sanskrit. His daughter died in August 1827, the university accepted Boden's bequest in November 1827, and the first Boden Professor of Sanskrit was elected in 1832.
یہ معلومات جس لنک (https://en.wikipedia.org/wiki/Boden_Scholarship)
سے لی گئی ہیں اس میں دیے گئے بوڈن طالب علموں کی فہرست میں الفریڈ وولنر کا نام شامل نہیں ہے۔ اس بات کا تذکرہ میں نے کلیئر ہاپکنز سے کیا ۔ انھوں نے کمال مہربانی کا مظاہرہ کرتے ہو ٹرینیٹی کالج سے شائع ہونے والی تاریخ اور کتاب کا عکس مجھے بھیجا جس میں الفریڈ وولنر کا اندراج آخری طالب علم کے طور پر ہے ۔
(۹) بحوالہ ۳
(10) Bruce,J.F."A History Of The University Of The Punjab", Lahore 1933. P:128
(۱۱) ملاحظہ ہو نمرتا گنیری کا مضمون :Peter Peterson : The Scottish Sanskrit Scholar ( لنک: https://madrascourier.com/biography/peter-peterson-the-scottish-sanskrit-scholar/
(۱۲) ڈاكٹرغلام حسین ،تاریخ اورینٹل کالج: لاہور، جدید اردو ٹائپ پریس ، ص ۹۴۱
(۱۳) ایضاً ص ۴۶
(14) Garrett,H.L.O,"A History of Government College Lahore(1864-1914)",Lahore :Civil and Military Gazette Press,1914. P: 131
(۱۵) اورینٹل کالج میگزین پہلی بار۱۹۲۵ءمیں اشاعت پذیر ہو ا ، ابتدا میں میگزین چار مہنیے بعد شائع ہوتا تھا یعنی سال میں تین نمبر۔ ابتدا میں اورینٹل کالج میگزین دو سیکشنز پر مشتمل تھا ۔ اردو سیکشن اور ہندی بھاگ ، بعد ازاں اس میں گور مکھی کا حصہ بھی شامل کی گیا ۔۱۹۲۵ءہی میں اورینٹل کالج کی موجودہ عمارت تعمیر میں آئی جس کا افتتاح گورنر پنجاب کے ہاتھوں ہوا ۔ اس موقع پر وولنر نے اورینٹل کالج کی تاریخ پر تفصیلی مضمون پڑھا ۔ اس مضمون کا اردو ملخص اورینٹل کالج میگزین کے پہلے شمارے میں شامل ہے ۔ ملخص کے شروع یا آخر میں کسی مترجم کا نام نہیں ہے ۔ گمانِ غالب ہے کہ اردو میں لکھا اور تیار کیا گیا یہ ملخص خود وولنر نے تحریر کیا ہو گا
Garrett,H.L.O,"A History of Government College Lahore(1864-1914)",
Lahore : Civil and Military Gazette Press,1914. P: 104
(۱۶) وولنر کی وفات کے بعد اورینٹل کالج میگزین کے فروری ۱۹۳۶ءکے شمارے کے ہندی بھاگ میں وولنر کے بارے میں ایک مضمون ہے ۔ مضمون چار صفحات پر مشتمل ہے؛اس میں چند انتہائی اہم اور ایسی معلومات دی گئی ہیں جو کسی اور ماخذ سے ہم تک نہیں پہنچی؛ میری دانست میں اردو کے کسی استاد یا مورخ نے ہندی مضامین سے استفادہ نہیں کیا ورنہ معلومات کا ایک نیا جہان سامنے آ سکتا ہے۔ میں نے ہندی مضمون کو انتہائی عرق ریزی سے پڑھا اوراستفادہ کیا ہے ۔ مضمون کے آغاز یا اختتام میں مصنف کا نام نہیں دیا گیا ۔ قیاس کہتا ہے کہ اسے اورینٹل کالج میگزین کے ہندی سیکشن کے مدیر ڈاکٹرلکشمن سروپ نے لکھا ہو گا ۔
(۱۷) Bottomکایہ کردار اپنے مضحک اسلوب اورگدھے کے سر میں منقلب ہو جانے کے لیے مشہور ہے ۔شیکسپیئر نے اپنے مخصوص انداز میں اس مزاحیہ کردار سے حقیقت اور تخیل کے درمیان قائم رشتے جیسی فلسفیانہ پیچیدگی کو روزمرہ مزاح کی صورت میں بیان کیا ہے ۔
(۱۸) ”راوی“(The Ravi) گورنمنٹ کالج لاہور کا معروف رسالہ ہے جس کا اجرا۱۹۰۶ ءمیں ہوا ۔اس زمانے میں راوی ہر مہینے نکلتا تھا اور اس کی ضخامت پچاس صفحے کے قریب ہوتی تھی ۔ رسالے کے ساتھ ساتھ یہ گورنمنٹ کالج کی ماہانہ خبروں کو بھی مختصر لیکن بلیغ انگریزی میں بیان کرنے کا کام دیتا تھا ۔ گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی اس امر کے لیے لائقِ ستائش ہے کہ اس نے ان تاریخی رسالوں کا ریکارڈبے حد ترتیب اور تنظیم سے رکھا ہے ۔
(19) THE RAVI (The Government College Magazine), vol 5, No 32, June 1910. P: 06
(20) THE RAVI (The Government College Magazine), vol 6, No 33 , July 1910. P: 09
(21) Dr Banarsi Das," A Life Sketch" included in, "WOOLNER COMMEMORATION VOLUME(In Memory of The Late Dr A.C. Wollner)" Edited by Muhammad Shafi. Lahore:Mehr Chand Lachman Das Sanskrit Book Depot, 1940. P: 05
(۲۲) ”شری ڈاکٹر اے سی وولنر “ مشمولہ :اورینٹل کالج میگزین فروری ۱۹۳۵ء، جلد ۲،نمبر ۲، ہندی بھاگ، مدیر ڈاکٹرلکشمن سروپ ص ۴ ( اصل حوالہ دیوناگری لِپی میں ہے)
(۲۳) ایضاً ص ۵
(۲۴) ایضاًص۵
(۲۵) ایضاً ص ۶
(26) Bruce,J.F."A History Of The University Of The Punjab",Lahore 1933. P:128
(27) ibid P: 64
(28) BRODRIB,C.W."DR WOOLNER AT OXFORD",included in, "WOOLNER COMMEMORATION VOLUME(In Memory of The Late Dr A.C. Wollner)" Edited by Muhammad Shafi. Lahore:Mehr Chand Lachman Das Sanskrit Book Depot, 1940. P: 9
(۲۹) ڈاکٹر حامد علی پنجاب یونی ورسٹی مرکزی کتابخانے میں وولنر کولیکشن سنٹر کے انچارج ہیں ۔ان کا بنیادی مضمون فارسی ہے ۔ ہندی لِپی سے آگاہ ہیں ۔ میں ان کا بے حد ممنون ہوں کہ انھوں نے مجھے آزادانہ طور پر وولنر کے مخطوطے دیکھنے اور ان کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع دیا۔ میں چیف لائبریرین پنجاب یونی ورسٹی استادم ڈاکٹر ہارون عثمانی صاحب کا بھی شکر گزار ہوں کہ انھوں نے اس سلسلے میں میری معاونت کی ۔
(۳۰) ہندوستانی ایپی گرافیکل لغت میں سرسوتی بھاندارا سے مراد سنسکرت ، پراکرت یا دراوڑی زبانوں میں لکھے گئے قدیم نوشتے ہیں ۔ ملیالم انگریزی لغت میں اس کے معنی ایک ایسے کمرے کے ہیں جہاں رِشی یا مُنی منظم طریقے سے پتوں پر پرانے متون لکھ کر محفوظ رکھتے ہوں۔
(۳۱) ملاحظہ ہو :
https://www.thehindubusinessline.com/news/national/worlds-first-palm-leaf-ma
(۳۲) عالمی شہرت یافتہ محقق جناب ڈاکٹر خورشید رضوی نے وولنر کولیکشن سے متعلق اپنی یادداشتیں مہیا کیں ، میں اس کے لیے ان کا ممنون ہوں ۔
vvv
How to cite
Rathor, D. A. (2026). لاہور میں سنسکرت کی ترویج : الفریڈ کوپر وولنر کا حصہ ( نو دریافت شدہ دستاویزات کی روشنی میں ). ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE, 100(4), 9–22. https://ocm.pu.edu.pk/website/journal/article/697722ae30be1/page
Retrieved from https://ocm.pu.edu.pk/website/journal/article/697722ae30be1/page
More citation formats
- ACM SIG Proceedings
-
[1]Rathor, D.A. 2026. لاہور میں سنسکرت کی ترویج : الفریڈ کوپر وولنر کا حصہ ( نو دریافت شدہ دستاویزات کی روشنی میں ). ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE. 100, 4 (Jan. 2026), 9–22.
- ACS Nano
-
(1)Rathor, D. A. لاہور میں سنسکرت کی ترویج : الفریڈ کوپر وولنر کا حصہ ( نو دریافت شدہ دستاویزات کی روشنی میں ). ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE 2026, 100 (4), 9–22.
- ABNT
-
RATHOR, Dr. Arsalan. لاہور میں سنسکرت کی ترویج : الفریڈ کوپر وولنر کا حصہ ( نو دریافت شدہ دستاویزات کی روشنی میں ). ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE, v. 100, n. 4, p. 9–22, 26 Jan.2026.
- Chicago (author-date)
- Harvard (Cite Them Right)
-
Rathor, D.A. (2026) “لاہور میں سنسکرت کی ترویج : الفریڈ کوپر وولنر کا حصہ ( نو دریافت شدہ دستاویزات کی روشنی میں )”, ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE, 100(4), pp. 9–22. Available at: https://ocm.pu.edu.pk/website/journal/article/697722ae30be1/page (Accessed: 5 May 2026).
- IEEE
-
[1]D. A. Rathor, “لاہور میں سنسکرت کی ترویج : الفریڈ کوپر وولنر کا حصہ ( نو دریافت شدہ دستاویزات کی روشنی میں )”, ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE, vol. 100, no. 4, pp. 9–22, Jan. 2026, Accessed: May 05, 2026. [Online]. Available: https://ocm.pu.edu.pk/website/journal/article/697722ae30be1/page
- MLA
-
Rathor, Dr. Arsalan. “لاہور میں سنسکرت کی ترویج : الفریڈ کوپر وولنر کا حصہ ( نو دریافت شدہ دستاویزات کی روشنی میں )”. ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE, vols. 100, nos. 4, Jan. 2026, pp. 9–22, https://ocm.pu.edu.pk/website/journal/article/697722ae30be1/page.
- Turabian (full note bibliography)
-
Rathor, Dr. Arsalan. “لاہور میں سنسکرت کی ترویج : الفریڈ کوپر وولنر کا حصہ ( نو دریافت شدہ دستاویزات کی روشنی میں )”. ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE 100, no. 4 (January 26, 2026): 9–22. Accessed May 5, 2026. https://ocm.pu.edu.pk/website/journal/article/697722ae30be1/page.
- Vancouver
-
1.Rathor DA. لاہور میں سنسکرت کی ترویج : الفریڈ کوپر وولنر کا حصہ ( نو دریافت شدہ دستاویزات کی روشنی میں ). ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE [Internet]. 2026 Jan. 26 [cited 2026 May 5];100(4):9–22. Available from: https://ocm.pu.edu.pk/website/journal/article/697722ae30be1/page
- AMA
-
1.Rathor DA. لاہور میں سنسکرت کی ترویج : الفریڈ کوپر وولنر کا حصہ ( نو دریافت شدہ دستاویزات کی روشنی میں ). ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE. 2026;100(4):9–22. Accessed May 5, 2026. https://ocm.pu.edu.pk/website/journal/article/697722ae30be1/page
Download citation Endnote/Zotero/Mendeley (RIS) BibTeX
-
مستشرقین بطورِ پرنسپل اورینٹل کالج (علمی و ادبی خدمات)
Dr. Aasma Rani
-
قیام پاکستان سے قبل یونیورسٹی اورینٹل کالج اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا مختصراً تدریسی تقابلی جائزہ
Dr. Imran Ali
-
اورینٹل کالج ،شعبہ اردو کے اساتذہ کی تاریخی،علمی اور ادبی خدمات
Dr. Hina Asghar
-
ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار کی پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج میں تدریس وتحقیق (تجزیاتی مطالعہ)
Dr. Tanveer Ghulam Hussain
-
اورینٹل کالج ،شعبہ فارسی کے اساتذہ 1872ء تا حال
Iqra Saleem
-
ڈاکٹر معین الدین نظامی کی نظم نگاری
Dr. Muhammad Naeem Ghuman, Ghulam Rasool
-
شعبۂ پنجابی ، اورینٹل کالج كی تاریخ :آغاز سے تاحال
Dr. Muhammad Irfanul Haq
-
ساڈے اکھان تے ڈاکٹر شہباز ملک
Jahanzaib Ali Awan
-
پروفیسر آرتھر جان آربری : احوال و آثار
Zahira Nisar
-
مشرقی علوم پر استشراقی کلامیےکا اثر و نفوذ: بحوالہ افکار سر سید ومولانا حالی
Dr. Muhammad Rauf
-
محمد سلیم الرحمٰن کی دوستوں کے لیے نظمیں
Dr. Muhammad Iqbal (Salim Suhail)
-
معرفی کتاب «فهرست نسخ خطی وقفی (1067ق) اسدالله بن محمد خاتون عاملی (م 1059ق) به آستان قدس رضوی ایران»
Kazem Ostadhi
Author(s):
Dr. Arsalan Rathor
Assistant Professor of UrduDepartment of Urdu, Govt.College University, Lahore
Pakistan
Details:
| Type: | Article |
| Volume: | 100 |
| Issue: | 4 |
| Language: | Urdu |
| Id: | 697722ae30be1 |
| Pages | 9 - 22 |
| Published | March 03, 2025 |
Statistics
|
|---|
Copyrights
| Creative Commens International License |
|---|

This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.