Oriental College Magazine, Punjab University - Lahore

ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE

Principal Oriental College, University of the Punjab, Lahore
ISSN (print): 1991-7007
ISSN (online): 2789-4657

برعظیم پاكستان وہندمیں انگریزی ترجمہ قرآن كی تحریك

  • Muhammad Arshad/
  • June 20, 2013
Abstract

This paper seeks to  study  the  movement for  an  Englsih translation of the Qur'an, initiated in the subcontinent by Shibli in 1910 and reinforced by Jam'iyyat al-Ulama Hind during the heyday of Shuddhi Movement in 1920s. This focuses, in particular, on the role of the Shibli Nu'mani besides the role of Jam'iyyat al-Ulama Hind and Majlis-i Qur'ani (Simla). On Shibli's persuasion, Sayyid Hussain Bilgrami  undertook the job of translation, but he could translate only 16 parts of the Qur'an, which  remained unpublished.  With the upsurge of Shuddhi movement during 1920s the Jami'ayyat al-Ulama Hind turned to the English translation of the Qur'an under the supervision of Sayyid Sulayman Nadvi, however due to the financial constraints, the dream remained unfulfilled and so was of Majlis-i Qur'ani (Simla). The paper argues that the movement initiated by Shibli and reinforced by Jam'iyyat and Majlis-i Qur'ani led Abdul Majid Daryabadi's English translation and commentary of the  Qur'an. 

References

حوالہ جات و حواشی

(۱) علماء اور ان کے مذہبی طرزِ فکر نیز قدیم روایتی نظام ِ تعلیم کے بارے میں سر سید احمد خان کے خیالات کے لیے دیکھیے: ضیاء الدین لاہوری (مرتب) ، نقشِ سر سید: سر سید کے سیرت و افکار کا تنقیدی جائزہ (لاہور: جمعیة پبلی کیشنز، ۲۰۰۶ء)، ص ۲۳۔۵۲ ؛ شیخ محمد اکرام،    موجِ کوثر( لاہور: ادارہٴ ثقافتِ اسلامیہ، ۱۹۹۷ء)، ص ۸۶۔۸۷، ۹۰۔۹۲ ۔

(۲) سید عبداللہ، ” شبلی کے تصنیفی کام کی مجموعی قدرو قیمت “ ، مشمولہ خان عبیداللہ خان (مرتب)، مقالات ِیوم شبلی (مرتبہ: خان عبیداللہ خان) (لاہور: اردو مرکز، ۶۱ ۱۹ء)، ص۱۔۲۔

(۳) سر سید کے طرز فکر کے علی گڑھ میں زیر تعلیم نوجوان نسل پر مرتب ہونے والے اثرات کے جائزہ کے لیے ملاحظہ ہو: سید ابوالحسن علی ندوی، مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش (کراچی: مجلس نشریات اسلام، ۱۹۸۱ء)، ص ۱۱۰۔۱۰۴ ؛ سید عبداللہ، ”شبلی کے تصنیفی کام کی مجموعی قدرو قیمت“، ص ۱ تا ۲؛ شیخ عطاء اللہ، ”شبلی : مفکر و مبلغ“، مشمولہ مقالات یوم شبلی، ص ۲۲۳ ؛ وہی مصنف،”شبلی اور سیرة النبی“، مقالات یومِ شبلی، ۲۲۶ تا ۲۲۷۔

(۴) شیخ عطاء اللہ، ” شبلی: مفکر و مبلغ“ ، ص۲۲۳۔

(۵) تفصیل کے لیے دیکھیے:

 A. J. Arberry, The Koran Interpreted (New York: Macmillan, 1955), "Preface", pp. 7-23; Muhammad Khalifa, The Sublime Qur'an and Orientalism (London / New York: 1983), Chapter 5: "English Translations of the Qur'an", pp. 64-79; F. V. Greifenhagen, "Traduttore Traditore: An Analysis of the History of English Translations of the Qur'an", Islam and Christian-Muslim Relations, vol. 3, no. 2 (1992), pp. 277-289.

(۶) سیرة النبی پر سر ولیم میور کی یہ کتاب چار ضخیم جلدوں میں ۱۸۵۸۔۱۸۶۱ء کے دوران میں لندن سے شائع ہوئی ۔ اس کا ملخص ایڈیشن The Life of Mohammad from Original Sources کے نام سے ۱۹۲۳ء میں ایڈنبرا سے شائع ہوا۔

(۷) سر سید احمد خان، مقالات سر سید، حصہ یازدہم: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے متعلق بارہ ۱۲ تحقیقی اور تنقیدی مقالات (مرتبہ: مولانا محمد اسمٰعیل پانی پتی) ( لاہور: مجلسِ ترقی ادب، ۱۹۹۲ء)، ”تمہید“، ص ۲۶ تا ۲۷۔ مزید دیکھیے: الطاف حسین حالی، حیات جاوید (نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو، ۲۰۰۴ء)، ص ۴۲۴۔

(۸) سر سید احمد خان، مسافرانِِِِ لندن (مرتبہ: شیخ محمد اسماعیل پانی پتی) (لاہور: مجلسِ ترقی ادب، ۲۰۰۹ھ / ۱۴۳۰ھ)، ص ۱۸۸؛ شیخ محمد اسماعیل پانی پتی (مرتب)، مکتوباتِ سر سید ( لاہور: مجلسِ ترقیٴ ادب ، ۱۹۷۶ء)، جلد ۱،ص ۴۲۵۔

(۹) حالی، حیاتِ جاوید ، ص ۱۶۰؛ سر سید احمد خان، مسافران لندن، ص ۱۷۲۔

(۱۰) تفصیل کے لیے دیکھیے: سر سید احمد خان، مسافران لندن، ص ۱۸۷، ۱۸۹، ۲۰۳، ۲۰۶۔۲۱۲۔سر سید احمد خان نے لندن کے دورانِ قیام سر ولیم میور (۱۸۱۹ء۔ ۱۹۰۵ء) کی کتاب Life of Mahomet(چار جلدیں ۱۸۵۵۔ ۱۸۶۱ء) کی تردیدمیں بارہ مقالے تحریر کیے جو انگریزی زبان میں ترجمہ کرا کے ۱۸۷۰ء میں

A Series of Essays on the Life of Mohammed, and Subjects Subsidiary thereto

 کے نام سے لندن سے شائع کیے۔ اردو مسودے کو انگریزی ایڈیشن کے سترہ سال بعد ۱۸۸۷ء میں خطباتِ احمدیہ کے نام سے شائع کیا۔

(۱۱) سید ابوالحسن علی ندوی، اسلامیات اور مغربی مستشرقین و مسلمان مصنفین (کراچی: مجلس نشریات اسلام، ۱۹۹۲ء)، ص ۳۲تا ۳۳۔مزید دیکھیے:

 James Thayer Addison, "The Ahmadiya Movement and its Western Propaganda", Harvard Theological Review, vol. XXII, no. 1 (Jan. 1929), pp. 1-32, esp. 13-19, 23-30.

(۱۲) عبدالحکیم پٹیالوی کے ترجمہ کے جائزہ کے لیے دیکھیے: عبدالرحیم قدوائی، ”بر صغیر پاک و ہند میں قرآن مجید کے انگریزی تراجم و تفاسیر“، علوم القرآن (علی گڑھ)، جلد ۲۵، شمارہ ۲ (جولائی تا دسمبر ۱۹۱۰ء/رجب المرجب ۱۴۳۱ ۔محرم الحرام ۱۴۳۲ھ)، ص ۵۰ تا ۵۱ ۔ مزید دیکھیے:

 Abdur Raheem Kidwai, "Mohammad Abdul Hakim Khan's "The Holy Quran (1905)": The First Muslim or the First Qadyani English Translation?", Insights (Islamabad), vol. 2, no. 1 (1430/2009), pp. 57-74.

(۱۳ ) عبدالحکیم خان کے اعتقادات نیز ان کی قرآنی تالیفات کے جائزہ کے لیے دیکھیے عبدالماجد دریا بادی، ”قرآن مجید کے انگریزی ترجمے“، بینات(کراچی)، جلد ۴، شمارہ ۳ (اگست ۱۹۶۴ء /ربیع الاول ۱۳۸۴ھ) ، ص ۱۳۶؛ مولانا عبدالماجد دریابادی ، اسلام، مسلمان اور جدید تہذیب: ایک مطالعہ ، ایک جائزہ (مرتبہ: محمد موسیٰ بھٹو) (حیدر آباد: سندھ نیشنل اکیڈمی ٹرسٹ، ۲۰۰۴ء)، ص ۵۴۔ مزید دیکھیے:

 Mofakhkhar Hussain Khan, The Holy Qur'an in South Asia (Dhaka: Bibi Akhtar Prakasani, 2001), pp. 274-276, 287.

 (۱۴) Dr. Abdul Hakeem Khan, The Prophet and Islam or The Mirror of Islam (Patiala: Rajinder Press, 1916).

(۱۵) تفصیل کے لیے دیکھیے: بہاوٴ الدین، تحریک ختم نبوت (لاہور: مکتبہٴ قدوسیہ، ۲۰۰۶ء)، جلد ۳، ص ۵۱۔۵۴، و جلد ۱۰، ص ۳۷۶۔ ۵۰۷ ؛ مولانا تاج محمد، ”مرزا قادیانی اپنے جلیل القدر ”مرید“ کی نظر میں“، مشمولہ محمد متین خالد (مرتب)، قادیانیت سے اسلام تک (لاہور: علم و عرفان پبلشرز، ۲۰۰۴ء)، ص ۴۱۱۔۴۱۹/ ملتان: عالمی مجلسِ تحفظ ِ ختمِ نبوت، ۱۹۹۸ء)، ص ۳۳۳۔۳۴۵؛ محمد متین خالد، ثبوت حاضر ہیں (لاہور: علم و عرفان پبلشرز، ۲۰۱۱ء)، جلد ۳، ص ۲۲۳۔۲۳۲۔

(۱۶) انیسویں صدی میں مغربی (خصوصا جرمن و برطانوی) مستشرقوں نے، جو قرآن حکیم کو الہامی صحیفہ نہیں بلکہ پیغمبر علیہ الصلوٰة والتسلیم کی تصنیف گردانتے تھے، پیغمبر اسلام کی شخصیت و تعلیمات او ر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ’ ’ذہنی و فکری ارتقاء “کے” تحلیل و تجزیہ “کے لیے قرآن حکیم کی سورتوں کی زمانہٴ نزول کے اعتبار سے ترتیب و تدوین کو بڑا اہم خیال کیا۔ مستشرقوں کے اس گروہ نے قرآن حکیم کی سورتوں کے زمانہ ٴ نزول کو متعین کرنے کی کوشش کی۔ اس مہم جوئی کا آغاز جرمن مستشرق Gustav Weil (۱۸۰۸۔۱۸۸۹ء) نے کیا۔ اس نے اولا پیغمبر اسلام کی سوانح عمریMohammed der Prophet اور بعد ازاں قرآن حکیم کے متن کی تنقید پر اپنی تصنیف kritische Einleitung in den Koran Historisch- (طبع ۱۸۴۴ء) میں قدرے تفصیل کے ساتھ اس پر طبع آزمائی کی۔ گستاف وےئل کے بعد متعدد دوسرے مستشرقوں جن میں تھیوڈور نولدیکے(۱۸۳۶۔۱۹۳۰ء)، سرولیم میور(۱۸۱۹۔۱۹۰۵ء)،ہیوبرٹ گریمی(۱۸۶۴۔۱۹۴۲ء) ، ریورنڈ کینن سیل (۱۸۶۹۔۱۹۳۲ء) اور رچرڈ بیل ( ۱۸۷۶۔۱۹۵۲ء )وغیرہ نے قرآن حکیم کے متن کو تحقیق و تنقید کا موضوع بنایا اور زمانہ ٴ نزول کے اعتبارسے قرآنی سورتوں کی ایک نئی ترتیب متعین کرنے کی کوشش کی۔ دیکھیے:

 W. Montgomery Watt, Bell's Introduction to the Qur'an (Edinburgh: Edinburgh University Press, 1977), 109-120,174-177

                 تاہم خود مستشرقوں کے ہاں سب سے زیادہ بار نولدیکے کی تصنیف کو حاصل ہوا۔ بقول ڈاکٹر محمد حمید اللہ ”اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کتاب اپنے موضوع سے متعلق معلومات کا خزانہ ہے اور ہر تحقیق کرنے والے کو اس کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے“۔ دیکھیے: محمد حمیداللہ ، ”قرآن سے متعلق جرمنوں کی خدمات“ (مترجمہ: عماد الحسن آزاد فاروقی)، جامعہ ( نئی دہلی)، جلد ۵۷، شمارہ ۳ (مارچ ۱۹۶۸ء)، ص۱۴۴۔ قرآن حکیم کے متن اور با لخصوص اس کی سورتوں کی ترتیب نزولی کے بارے میں تھیوڈور نولدیکے اور دیگر مستشرقوں کے قیاسات وآرا کے بارے میں ملاحظہ ہو: سید نواب علی، تاریخ صحف سماوی (کراچی: مکتبہٴ افکار، ۱۹۶۳ء)، ص ۲۵۶۔۳۶۷؛محمداویس ندوی نگرامی، ”مستشرق نولدیکی اورقرآن“، معارف(اعظم گڑھ)، جلد ۱۳۷، شمارہ ۱ (جنوری ۱۹۸۶ء)، ص۵۔۱۶؛ دوست محمد خان، ”تاریخ قرآن اور مستشرقین: علمی و تنقیدی جائزہ“، الاضواء (لاہور)،جلد۲۷،شمارہ۳۷(۱۴۳۳ھ/۲۰۱۲ء)، ص۲۳۔۲۸ مزید دیکھیے :

 Emmanuelle Stefanidis, "The Qur'an Made Linear: A Study of the Geschichte des Qorans' Chronological Reordering", Journal of Qur'anic Studies, vol. X,no. 2 (2008 ), pp. 1-22;Ibn Warraq and Timothy J. Madigan, "Theodor Noldeke: Father of Qur'anic Criticism", Free Inquiry, vol. 22, no. 2 (Spring 2002); M. Montgomery Watt, "Dating of the Qur'an: a Review of Richard Bell's Theories", Journal of the Royal Asiatic Society (New Series), vol. 89, nos. 1-2, (April 1957), pp. 46-56.

(۱۷) دیکھیے: عبدالرحیم قدوائی، ” برصغیر ہندو پاک میں قرآن مجید کے انگریزی تراجم و تفاسیر“، ص۳۵۔۳۶؛ عبدالماجد دریا بادی، ”قرآن مجید کے انگریزی تراجم“، بینات (کراچی)، ص ۳۷۔ مزید دیکھیے:

 A. R. Kidwai, Bibliography of the Translations of the Meanings of the Glorious Qur'an into English, 1649-2002 : A Critical Study (Al-Madinah: King Fahd Qur'an Printing Press, 1428/2007), pp. 185-187.

(۱۸) دیکھیے:S. M. Zwemer, "Review on Abul Fadl's English Translation of the Quran", Moslem World, 2:1 (January 1912), pp. 82-83.

                مرزا ابوالفضل نے قرآن حکیم کا اردو میں بھی ترجمہ بھی کیا تھا جو اردو ترجمہٴ قرآن مجیدکے نام بغیر عربی متن کے سے الہ آباد سے شائع ہوا (۱۹۱۳ء)۔ اس نے تفسیرِ سورہٴ فاتحہ (الہ آباد ۱۹۲۰ء) کے علاوہ ایک کتاب غریب القرآن کے نام سے شائع (حیدر آباد ۱۹۴۷ء) کی ۔                 مزید براں اس نے احادیث کے دو منتخبات کاانگریزی ترجمہ Muhammad in the Hadees (الہ آباد: عباس منزل لائبریری، س۔ ن) اور Sayings of the Prophet Muhammad (الہ آباد ۱۹۲۴ء) اورسیرة النبی پر ایک انگریزی کتاب The Life of Mohammed کے نام سے بھی شائع کی(الہ آباد ۱۹۱۰ء) ۔ ابوالفضل کے احوال و آثار کے لیے دیکھیے:

Mofakhkhar Hussain Khan, The Holy Qur'an in South Asia (Dhaka: Bibi Akhtar Prakasani, 2001), pp.274-276, 286; Baljon, Modern Muslim Koran Interpretation, pp. 74, 100.

(۱۹) شبلی نعمانی، ”ایک عظیم الشان تحریک یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مفصل اور مستند سوانح عمری مرتب کرنے کی تجویز“، الندوہ (لکھنوٴ)،جلد ۹، شمارہ ۱ ( محرم الحرام ۱۳۳۰ھ/جنوری ۱۹۱۲ء )، ص۵۔۸ ؛ سید سلیمان ندوی (مرتب)، مقالات شبلی اعظم گڑھ: مطبع معارف، ۱۹۷۲ء)، جلد ۸، ص ۳۶۔۴۱؛ سید سلیمان ندوی، حیاتِ شبلی (اعظم گڑھ: دارالمصنفین، ۲۰۰۶ء)، ص۷۰۶۔۷۱۵ ۔

( ۲۰) جارج سیل (George Sale، ۱۶۹۷۔۱۷۳۶ء) نے Lodovico Marracci کے لاطینی ترجمےRefutatio Alcorani) ، مطبوعہ ۱۶۹۸ء) پر بڑی حد تک تکیہ کرتے ہوئے قرآن حکیم کا پہلا انگریزی ترجمہ تیار کیا، جو لندن سے ۱۷۳۴ء میں شائع ہوا۔ سیل نے ایک مفصل مقدمہ بھی تحریر کیا جس میں گو اس نے اپنے پیش رو مغربی مسیحی مترجمین کے مقابلے میں قرآن حکیم اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قدرے نرم زبان استعمال کر تے ہوئے رسول اللہ کی سیرت و اخلاق کے بعض پہلووٴں کی تحسین کی لیکن آپ کی نبوت و رسالت کو قطعی طور پر مشتبہ و مشکوک ٹھیرایا۔ دیکھیے:

 George Sale, The Koran commonly called The Alkoran of Mohammed. Translated into English from the Original Arabic with Explanatory Notes Taken from the Most Approved Commentators (Strand, I: Frederick Warne & Co., Publishers, n. d.?), "Preliminary Discourse", chaps. III, IV, V, pp. 44-103.

                 جارج سیل کے ترجمہ کو انگریزی زبان میں ایک مستند و معیاری ترجمہ خیال کیا گیا۔ چنانچہ انگلینڈ اوراس کے باہر انگریزی خواں حلقوں میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی اور اسے کے پے در پے بیسیوں ایڈیشن نکلے، اور بعد میں آنے والے مترجمین (راڈویل اور پامر وغیرہ)نے اس سے بھر پور استفادہ کیا۔ دیکھیے:

 A. J. Arberry, The Koran Interpreted (London: Allen & Unwin, 1955), "Preface", pp.10-13; Abdullah Yusuf Ali, The Holy Qur'an. . . . (Lahore: Sh. Muhammad Ashraf, 1934), vol. I, pp. xiv-xv.

( ۲۱) دیکھیے: سید سلیمان ندوی، حیاتِ شبلی (اعظم گڑھ: دارالمصنفین، ۲۰۰۶ء)، ”دیباچہ“، ص ۲۰ تا ۲۱

( ۲۲) دیکھیے

 Francis Robinson, The Ulama of Farangi Mahall and Islamic Culture in South Asia (Lahore: Ferozsons Pvt. Ltd. 2002),pp. 124-125.

                انگریزی زبان کی تحصیل کے بارے میں مولانا شبلی نعمانی اور مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے خیالات و آراء کے جائزہ کے لیے دیکھیے: محمد ارشد، ”جنوبی                 ایشیا میں انگریزی زبان کی ترویج: علماء کا رد عمل“، معیار (اسلام آباد)، جلد ۱، شمارہ ۱ (جنوری تا جون ۲۰۰۹ء)، ص۲۲۲ تا ۲۲۳

(۲۳) شدھی تحریک کے لیے دیکھیے حاشیہ ۷۶

( ۲۴) دیکھیے: سید سلیمان ندوی (مرتب)، مکاتیب شبلی (اعظم گڑھ: دارالمصنفین، ۱۹۱۰ء)، جلد ۱، ص ۱۸۹ ، ۲۲۶ و بمواضع کثیرہ؛ سید سلیمان ندوی (مرتب)، مقالات شبلی، جلد ۸، ص ۱۔۱۵ ؛ سید سلیمان ندوی (مرتب)، خطبات شبلی(لاہور: نیشنل بک فاوٴنڈیشن، ۱۹۸۹ء)،ص۸۹، ۱۰۱۔۱۰۵ ؛ سید عبدالباری، ”عصرِ رواں میں شبلی کی معنویت“، معارف (اعظم گڑھ)، جلد ۱۸۲، شمارہ ۵ (ذی قعدہ ۱۴۲۹ھ/ نومبر ۲۰۰۸ء)،ص۳۴۷

( ۲۵) سید سلیمان ندوی(مرتب)،خطباتِ شبلی، ص ۱۰۴۔ ۱۰۵

(۲۶) سید سلیمان ندوی، حیات شبلی، ص ۵۸۲۔۵۸۳

(۲۷) سید سلیمان ندوی(مرتب)،خطباتِ شبلی، ص ۱۲۰۔ ۱۲۱؛ محمد الیاس اعظمی، آثارِ شبلی (اعظم گڑھ: دارالمصنفین، ۲۰۱۳ء)، ص ۵۶۳۔۵۶۴

(۲۸) تفصیل کے لیے دیکھیے: سید سلیمان ندوی (مرتب)، خطباتِ شبلی، ص ۸۲ ۔۱۲۲؛ غطریف شہباز ندوی، ”برصغیر میں اسلامی فکر کے ارتقاء میں مولانا شبلی کا حصہ“، ترجمان دارالعلوم(نئی دہلی)، جلد۴، شمارہ ۵۔۷ (جنوری، فروری، مارچ ۲۰۰۸ء/محرم ، صفر، ربیع الاول ۱۴۲۹ھ)، ص ۱۷

 

( ۲۹) سید سلیمان ندوی (مرتب)، مقالات شبلی، جلد۸، ص۵۴۔

(۳۰) سید سلیمان ندوی(مرتب)، مقالات شبلی، جلد ۸، ص ۵۴۔۵۵؛ سید سلیمان ندوی، حیاتِ شبلی، ص ۴۹۹، ۵۸۲۔ ۵۸۳؛ شمس تبریز خان، تاریخ ندوة العلماء (لکھنوٴ: مجلسِ صحافت و نشریات ندوة العلماء لکھنوٴ، ۱۴۳۲ھ /۲۰۱۱ء)، جلد۲، ص ۹۱؛ محمد الیاس اعظمی، ”عہدِ حاضر میں علامہ شبلی کی بعض تجویزوں اور منصوبوں کی معنویت“، معارف (اعظم گڑھ)، جلد ۱۸۱، شمارہ ۲ (صفر المظفر ۱۴۲۹ھ/فروری ۲۰۰۸ء)،ص۱۳۱

(۳۱) سید سلیمان ندوی(مرتب)، مکاتیبِ شبلی ( اعظم گڑھ: مطبع معارف، ۱۳۹۱ھ / ۱۹۷۱ء)، جلد ۲، ص ۳۲ تا ۳۳۔ مزید دیکھیے: شر ف الدین اصلاحی، ذکرِ فراہی: مولانا حمید الدین فراہی کے سوانح حیات (لاہور: دارلتذکیر، ۲۰۰۲ء)، ص ۳۹۶۔

(۳۲) شبلی نعمانی، ”شذرات“، الندوہ (لکھنوٴ)، اگست ۱۹۱۰ء، ص۳ بحوالہ اصلاحی، ذکرِ فراہی، ص۳۹۶؛ سید سلیمان ندوی، حیاتِ شبلی، ص ۵۸۳ ۔

(۳۳) شبلی بنام حبیب الرحمٰن شروانی، محررہ ۵ مئی ۱۹۱۰ء، مشمولہ مکاتیبِ شبلی، جلد ۱، ص ۱۷۱۔

(۳۴) مولانا حمیدالدین فراہی(۱۲۸۰ھ/۱۸۶۳ء۔۱۳۴۹ھ/۱۹۳۰ء)نے عربی و اسلامی علوم کی تحصیل و تکمیل اپنے عہد کے مقتدر علماء علامہ شبلی نعمانی (۱۸۵۷۔۱۹۱۴ء)، مولانا ابو الحسنات عبدالحی فرنگی محلی(۱۸۴۸۔۱۸۸۶ء) اور مولانا فیض الحسن سہارن پوری (۱۸۱۶۔۱۸۸۷ء) سے کی ۔ بعدازاں کرنل گنج سکول الہ آباد سے مڈل اور پھر انٹرنس کیا۔ ۱۸۹۱ء میں علوم جدیدہ کی تحصیل کے لیے ایم اے او کالج علی گڑھ کا رخ کیا اور وہاں سے بی اے کیا۔یہاں انھوں نے انگریزی زبان و ادب اور فلسفہ جدیدہ کی تعلیم حاصل کی۔ مزید براں یہودی عالم پروفیسر جوزف ہارووٹز/ ہارویز سے عبرانی زبان            پڑھنی شروع کی اور اس میں مہارت پیدا کی۔ مولانا فراہی نے سندھ مدرسة الاسلام کراچی میں عربی کے استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کا آغاز کیا۔            چند سال بعد مدرسة الاسلام کراچی کو خیر باد کہہ کر پہلے علی گڑھ میں اور بعد میں میور کالج الہ آباد میں عربی کے استاد مقرر ہوئے۔ ۱۹۱۴ء میں دارالعلوم حیدرآباد کے پرنسپل ہو کر حیدر آباد چلے گئے اور کئی سال تک اس منصب پر فائز رہے۔ ۱۹۱۹ء میں مستعفی ہو کر اپنے وطن اعظم گڑھ چلے آئے اور مدرسة الاصلاح سرائے میر کو اپنی علمی و فکری آماجگاہ بنایا اور پوری زندگی اسی مدرسے کی خدمت میں گذار دی۔ مولانا حمید الدین عر بی زبان و ادب، فلسفہٴ قدیم و جدید میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ قرآنیات اور تقابلِ ادیان سے تو ان کو خصوصی شغف تھا۔مولانا فراہی نے نظم قرآن کے نظریے کو قوی نقلی و عقلی دلائل سے پیش کیا ہے اور قرآن حکیم کی متعدد سورتوں( الفاتحة، الذاریات، التحریم، القیامة، المرسلات، عبس، الشمس، التین، العصر، الفیل، الکوثر، الکافرون، اللھب ) کی تفسیر میں اس نظریے کو عملا برتا بھی ہے۔ ان سورتوں کا تفسیری مجموعہ نظام القرآن کے نام سے شائع ہوا ہے۔ دیکھیے: تفسیر نظام القرآن و تأویل الفرقان بالفرقان ۲ جلدیں (سرائے میر، اعظم گڑھ: الدائرة الحمیدیة، ۲۰۰۰۔۲۰۰۸ء)۔ مولانا فراہی نے تفسیر نظام القرآن کے علاوہ قرآن حکیم کے عربی میں تفسیری حواشی بھی لکھے(دیکھیے: سلطان احمد اصلاحی، ”مولانا حمید الدین فراہی کے غیر مطبوعہ قرآنی حواشی“، مشمولہ قرآن مجید کی تفسیریں چودہ سو برس میں (پٹنہ: خدا بخش پبلک اورینٹل پبلک لائبریری، ۱۹۹۵ء)،ص ۲۸۹۔۳۰۰) جنھیں عبیداللہ فراہی اور محمد امانة اللہ اصلاحی نے مرتب کر کے تعلیقات فی تفسیر القرآن الکریم کے نام سے ۲ جلدوں میں شائع کیا ہے (سرائے میر، اعظم گڑھ: الدائرة الحمیدیة، ۱۴۳۱ھ۲۰۱۰ء) ۔

(۳۵) نواب سید حسین بلگرامی خاندان اودھ کے مشہور مردم خیز قصبہ بلگرام سے تعلق رکھتے تھے ۔وہ اکتوبر ۱۸۴۲ء میں پیدا ہوئے، خانگی طور سے مقامی علماء سے عربی و فارسی کی تحصیل کی۔پہلے بھاگل پورپھر، پٹنہ او ر اس کے بعد کلکتہ کے انگریزی اسکولوں میں تعلیم پا کر۱۸۶۱ء میں انٹرنس کا امتحان پاس کیا جبکہ ۱۸۶۳ء میں پریسیڈنسی کالج سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ ۱۸۶۶ء میں بی اے کی ڈگری درجہ اول کے ساتھ کلکتہ یونیورسٹی سے حاصل کرکے علوم مشرقی اور مغربی کے فاضل بن گئے۔ تعلیم سے فارغ ہو کرکیننگ کالج لکھنوٴ میں عربی کے پروفیسر مقرر ہوئے اور چھ برس تک درس وتدریس کی خدمت انجام دیتے رہے۔ انھیں دنوں انجمنِ تعلقہ داران لکھنوٴ کی طرف سے انگریزی اخبار لکھنوٴ ٹائمز جاری ہوا تو سید حسین بلگرامی اخبار مذکور کو ایڈٹ کرنے لگے۔ جون ۱۸۷۳ء میں مولوی سید حسین سر سالار جنگ اول جو اس وقت دولتِ آصفیہ کے مدارالمہام تھے،کے پرائیویٹ سیکرٹری بن کر لکھنوٴ سے حیدرآباد چلے گئے۔ ۱۸۸۲ء میں اعلیٰ حضرت نواب میر محبوب علی خان کے پرائیویٹ سیکرٹری مقرر ہوئے ۔ جلد ہی وہ ریاست کے محکمہٴ تعلیم کے ناظم اور شہزادہ ولی عہد میر عثمان علی خان کی تعلیم و تربیت کے نگران مقرر ہوئے۔ نظامت تعلیمات کے اعلیٰ عہدہ دار کی حیثیت سے تئیس برس تک اس خدمت پر مامور رہے اور اس لحاظ سے اپنی عمر اور اپنی قابلیت کا بڑا زمانہ اشاعت تعلیم اور ترتیب تعلیم کی کی نذر کر دیا۔ ۱۹۰۷ء میں وہ نظامت تعلیم کے عہدہ سے وظیفہ یاب ہو کر سبکدوش ہوئے۔ نواب صاحب نے چوراسی سال کی عمر میں ۳ جون ۱۹۲۶ء کو حیدر آباد میں عالم فانی کو سدھار گئے۔نواب عمادالملک انگریزی و عربی ادب کا نہایت اعلیٰ علمی ذوق رکھتے تھے۔ عربی اور انگریزی میں اس اعلیٰ درجہ کی مہارت کے سبب ترجمہ قرآن کے لیے علامہ شبلی انھیں بہت ہی موزوں شخصیت خیال کرتے تھے۔ وہ دارالمصنفین کی مجلس منتظمہ کے پہلے صدر نشین تھے اور اخیر تک اس تعلق کو قائم رکھا۔نواب عماد الملک کے احوال و آثار کے بارے میں ملاحظہ ہو: عبدالحی الحسنی، نزھة الخواطر و بھجة المسامع و النواظر (کراچی: نور محمد، اصح المطابع ، کارخانہٴ تجارتِ کتب، ۱۳۹۶ھ/ ۱۹۷۶ء)، جلد ۸، ۱۰۹۔۱۱۱؛ سید سلیمان ندوی، یاد رفتگان (کراچی: مجلسِ نشریاتِ اسلام، ۲۰۰۳ء)، ص ۶۷ تا ۷۲؛ وہی مصنف، حیات شبلی ، ص ۵۰۱، ۵۰۶، ۵۸۳۔۵۸۴ و بمواقع عدیدہ؛ شاہ معین الدین ندوی، حیاتِ سلیمان                 (اعظم گڑھ: دارالمصنفین، س۔ ن)،ص ۹۸۔۹۹۔ مولانا فراہی کے اشتراک سے ترجمہٴ قرآن کے بارے میں ملاحظہ ہو: عبدالماجد دریابادی، ” قرآن مجید کے انگریزی ترجمے“، بینات (کراچی)، جلد ۴، شمارہ ۳ (اگست ۱۹۶۴ء)، ص ۱۳۷۔س

( ۳۶)سید سلیمان ندوی ، مقالاتِ شبلی، جلد ۸ ، ص ۵۵۔۵۶ ؛ اصلاحی، ذکرِ فراہی ، ص ۳۹۶

( ۳۷)عبدالماجد دریا بادی ، حکیم الامت: نقوش و تأثرات (وصی آباد، الہ آباد: سعدی بک ڈپو، ۱۹۹۰ء)، ص ۳۱۹

(۳۸)عبدالماجدی دریا بادی، ”قرآن مجید کے انگریزی ترجمے “، بینات (کراچی)، جلد۴، شمارہ ۳ (اگست ۱۹۶۴ء)، ص ۱۳۷

(۳۹) سید سلیمان ندوی (مرتب)،مقالات شبلی، جلد ۸، ص ۵۵

(۴۰) سید سلیمان ندوی (مرتب)،مکاتیب شبلی ، جلد ۱، ص ۱۷۱۔ ۱۷۲

(۴۱) سید سلیمان ندوی(مرتب)، مقالات شبلی، جلد۸، ص ۵۵

( ۴۲) مولوی محمد صالح، پرنسپل ایس ای کالج بہاول پور، ۱۹۰۷۔۱۹۱۰ء رہے، دیکھیے: ”فہرستِ مختلف شعبہ جات میں ایس ای کالج کی معروف شخصیات“، نخلستان ادب ، شخصیات نمبر(بہاول پور)، ۲۰۱۲ء، ص۲۴۴

(۴۳) شبلی نعمانی، ”شذرات“، الندوہ (لکھنوٴ)، اگست ۱۹۱۰ء، ص۳ بحوالہ اصلاحی، ذکرِ فراہی، ص ۳۹۷؛ ظفر الاسلام اصلاحی، ”مولانا حمید الدین                 فراہی“، مشمولہ علامہ حمید الدین فراہی: حیات و افکار (مقالات ِ فراہی سیمینار) (سرائے میر، اعظم گڑھ: دائرہ حمیدیہ، مدرسة الاصلاح، ۱۹۹۲ء)، ص ۴۹۔

(۴۴) شبلی نعمانی، ”شذرات“، الندوہ (لکھنوٴ)، اگست ۱۹۱۰ء، ص ۳؛ سید سلیمان ندوی، حیاتِ شبلی، ص۵۸۳

(۴۵) شبلی نعمانی، ”شذرات“، الندوہ (لکھنوٴ)، اگست ۱۹۱۰ء، ص ۳؛ اصلاحی، ذکر فراہی، ص ۳۹۷

(۴۶) شبلی نعمانی، ”شذرات“، الندوہ (لکھنوٴ)، ستمبر ۱۹۱۰ء، ص ۱؛ اصلاحی، ذکرِ فراہی، ص ۳۹۷

(۴۷) جے ایم راڈویل کا ترجمہ

 The Koran: translated from the Arabic , the Suras arranged in Chronological order with notes and index          لندن سے ۱۸۶۱ء شائع ہوا ۔ موصوف نے اپنے ترجمہ کے دیباچہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے بارے میں انتہائی لغو اور بیہودہ الزامات عائد کیے ہیں اور قرآن مجید پر بہت سے اعتراضات اٹھائے ہیں۔ اس نے اپنے ترجمہ میں قرآن حکیم کی سورتوں کی ترتیب کو بالکل الٹ دیا اور زمانہٴ نزول کے اعتبار سے ایک نئی ترتیب قائم کی۔ رسول اللہ کو قرآن حکیم کا مصنف خالق و مصنف قرار دیا اور یہودیت و نصرانیت اور مذہب زرتشت کو قرآن حکیم کے مآخذ ثابت کرے پر زور صرف کیا۔قرآن حکیم کے معانی و مطالب کو مسخ کر کے پیش کرنے کی بھر پور سعی کی( راڈویل کے ترجمہ کے تنقیدی جائزہ کے لیے دیکھیے: عبدالماجد دریا بادی، عرضِ حال“، ص۴۔۵۔ مزید دیکھیے:

A. J. Arberry, The Koran Interpreted (London: Allen & Unwin; New York: Macmillan, 1955), "Preface", pp. 14-15; Abdullah Yusuf Ali, The Holy Qur'an. . . . (Lahore: Sh. Muhammad Ashraf, 1934), vol. I, pp. xiv-xv; A. R. Kidwai, "Translating the Untranslatable: A Survey of English Translations of the Qur'an", Muslim World Book Review, vol. 7, no. 4 (1987), p. 70. )

(۴۸) نواب عماد الملک بنام مولانا شبلی نعمانی، مشمولہ سید سلیمان ندوی(مرتب)، مقالاتِ شبلی، جلد۸، ص ۵۵ تا ۵۶

( ۴۹) سید سلیمان ندوی (مرتب)،مقالات شبلی، جلد ۸، ص۵۶

(۵۰) سید سلیمان ندوی (مرتب)، مقالاتِ شبلی، جلد ۸، ص ۵۶

(۵۱) سید سلیمان ندوی(مرتب)،مقالات شبلی، جلد ۸، ص۵۷۔

(۵۲) سید سلیمان ندوی، حیاتِ شبلی، ص ۵۰۱۔

(۵۳) شمس تبریز خان، تاریخ ندوة العلماء، جلد ۲، ص ۱۰۰؛ اصلاحی، ذکر فراہی، ص۳۹۸۔۳۹۹

(۵۴) سید سلیمان ندوی، حیاتِ شبلی، ص ۵۸۳۔۵۸۴

(۵۵) سید سلیمان ندوی (مرتب)، مکاتیبِ شبلی (اعظم گڑھ،: دارالمصنفین،۲۰۰۱ء)، جلد ۱، ص۳۰۰؛ مولانا ابوالکلام آزاد کے نام ایک خط (محررہ ۲۰ / اگست ۱۹۱۳ء) میں لکھا: ”عماد الملک بلگرامی تفریحا حیدرآباد بلاتے ہیں، ۔ ۔ ۔ عمادالملک ترجمہٴ قرآن میں مصروف ہیں، لکھا ہے کہ پندرہ پارے ہو چکے“ دیکھیے: مکاتیب شبلی، جلد ۱، ص ۲۷۰

(۵۶) سید سلیمان ندوی(مرتب)،مکاتیب شبلی، جلد ۱، ص ۲۷۱؛ نیز بنام سید نواب علی (محررہ ۲۹/ اگست ۱۹۱۳ء)، مکاتیب شبلی، جلد ۱، ص ۳۰۱

( ۵۷) سیدسلیمان ندوی (مرتب)،مقالاتِ شبلی، جلد ۸، ص ۵۷۔

( ۵۸) سید سلیمان ندوی، حیاتِ شبلی، ص ۵۸۳ تا ۵۸۴۔

(۵۹) سید سلیمان ندوی، حیاتِ شبلی، ص ۵۸۲ تا ۵۸۴ ؛ سید سلیمان ندوی(مرتب)، مکاتیبِ شبلی( اعظم گڑھ: مطبع معارف، ۱۳۹۱ھ/۱۹۷۱ء)، جلد ۲، ص ۳۲ تا ۳۳؛ ظفر الاسلام اصلاحی، ”مولانا حمید الدین فراہی“، ص ۴۹

(۶۰) عبدالماجد دریا بادی ”قرآن مجید کے انگریزی ترجمے“، ص ۱۳۷۔

(۶۱) انوار مارہروی، ”مولوی سید حسین صاحب مرحوم بلگرامی“، مشمولہ آغا حسین ہمدانی (مرتب)، دستاویزات آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس صدارتی خطبات ۱۸۸۶ تا ۱۹۰۶ء (اسلام آباد: قومی ادارہ برائے تحقیق تاریخ و ثقافت، ۱۹۸۶ء)، جلد ۱، ص ۱۹۵)

(۶۲) ضیاء الدین اصلاحی (مرتب)، مشاہیر کے خطوط بنام مولانا سید سلیمان ندوی (اعظم گڑھ: دارالمصنفین، س۔ ن۔)، ص ۷۱۔

(۶۲ ب)مولانا ابوالکلام آزاد بنام مولوی محی الدین احمد، محررہ ۴ اگست ۱۹۸۳ء ، مشمولہ غلام رسول مہر (مرتب)، تبرکاتِ آزاد (لاہور: کتاب منزل، س ۔ ن )، ص ۸۰۔۸۱

(۶۳) سید سلیمان ندوی (مرتب)، مکاتیبِ شبلی، جلد ۱،۲۳۸، ۲۴۲ ۔ مولانا حمیدالدین کے قرآن فہمی کے مولانا شبلی بے حد مداح تھے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: مقالات شبلی؛ مکاتیب شبلی تذکرہ علمائے مصر کی طرف سے مولانا فراہی کی تفسیر کی تحسین

(۶۴) سیدسلیمان ندوی(مرتب)، مکاتیب شبلی، جلد ۱، ص ۲۳۸؛ مزید دیکھیے: شبلی نعمانی بنام منشی محمد امین (محررہ ۱۰ جنوری ۱۹۱۴ء)،مشمولہ سید سلیمان ندوی (مرتب)،مکاتیب شبلی، جلد ۱ ِ ،ص ۲۴۰ و حاشیہ۱

(۶۵) سید سلیمان ندوی(مرتب)،مکاتیب شبلی، جلد ۱، ص۲۴۲۔ مولانا حمید الدین فراہی کی عربی زبان و ادب میں مہارت و لیاقت اور ان کے ذوق قرآ ن فہمی کے مولانا شبلی بڑے زبردست مداح تھے ۔ دیکھیے: مکاتیب شبلی، جلد ۱، ص ۲۴۲؛ مولانا شبلی نے مولوی حمید الدین فراہی کی تصانیف پرتبصروں میں بھی ان کے فہمِ قرآن کی بڑے بلند الفاظ میں ان کی تحسین کی۔ دیکھیے: سید سلیمان ندوی (مرتب)، مقالات شبلی (لاہور: نیشنل بک فاوٴندیشن، ۱۹۸۹ء، جلد ۲، ص ۱۵۔۲۷۔ حمیدالدین کی علمی فضیلت کے بارے میں سید سلیمان ندوی ( دیکھیے: یاد رفتگان، کراچی: مجلس نشریات اسلام، ۲۰۰۳ء، ص ۱۱۰۔۱۳۲) اور عبدالماجد دریابادی بھی رطب اللسان نظر آتے ہیں( دیکھیے:                 معاصرین، کراچی: مجلس نشریات اسلام، س۔ن۔، ص ۱۲۱۔۱۲۳)۔

(۶۶) مرزا حیرت دہلوی اور ان کے رفقاء کا یہ ترجمہ The Koran, English Translation Prepared by Various Oriental Learned Scholars (مرتبہ: مرزا حیرت دہلوی) کے نام سے پہلی بار تین جلدوں میں آئی ایم ایچ پریس دہلی سے ۱۹۱۶ء۔۱۹۱۹ء کے دوران میں اور دوسری با ر یکجا ایک جلد میں۱۹۳۰ء میں دہلی ہی سے شائع ہوا ۔جلد اول کے سرِ ورق پر صراحت ہے کہ یہ ترجمہ علماء کی ایک جماعت نے کیا ہے جبکہ مرزا حیرت نے اس کو مرتب کیا ہے۔ (دیکھیے: نور الحسن راشد کاندھلوی، ”شاہ محمد اسماعیل شہید کی سوانح حیات حیات طیبہ اور اس کے موٴلف مرز احیرت دہلوی“، احوال و آثار (کاندھلہ، مظفر نگر)، سلسلہٴ جدید، جلد ۲،شمارہ ۲۰۔۲۲ (اکتوبر۔دسمبر ۲۰۰۸ تا جنوری۔مارچ ۲۰۰۹ء )، ص ۱۶۴۔۱۶۵۔ ص۱۶۵۔۱۶۶۔

( ۶۷) عبدالرحیم قدوائی، ”قرآن مجید کے انگریزی تراجم و تفاسیر“، ص ۳۶۔ مزید دیکھیے: Kidwai, Bibliography of the Translations, pp. 182-183. ۔مرزا حیرت نے اردو میں بھی قرآن مجید کا ترجمہ(ترجمہٴ قرآن مجید مع تفسیر بالحدیث بر حاشیہ کے نام سے)کیا تھا جو متعدد بار چھپ چکا ہے۔ ان کے علمی آثارکے لیے دیکھیے: محمد اسحاق بھٹی، برصغیر کے اہلِ حدیث خدام القرآن (لاہور: مکتبہٴ قدوسیہ، ۲۰۰۵ء)، ص۱۲۷۔۱۴۴۔ مزید دیکھیے: Khan, The Holy Qur'an in South Asia , pp. 277-278.

(۶۸) عبدالماجد دریا بادی، حکیم الامت: نقوش و تأثرات، ص ۳۱۸

(۶۹) اشرف علی تھانوی، اصلاح ترجمہٴ حیرت (کانپور: مطبع قیومی،۱۹۱۱ء)، ۱۴ صفحات

(۷۰) قادیانیوں کی طرف سے ۱۹۰۷ء سے بڑے شد و مد سے ایک انگریزی ترجمہٴ قرآن کی ضرورت کا پرچار کیا گیا۔اس کام کے لیے مرزا غلام احمد قادیانی کے خلیفہٴ اول حکیم نور الدین (۱۸۴۱۔۱۹۱۴ء) کی نظر انتخاب اپنے محبوب شاگرد محمد علی پر پڑی۔ نورالدین کے ایماء پر۶ جون۱۹۰۹ء کو انجمن احمدیہ کے                 اجلاس میں مولوی محمد علی سیکرٹری انجمن احمدیہ نے ترجمہ و تفسیر کا منصوبہ پیش کیا۔ اس پرانجمن نے ایک قرار داد منظور کی کہ ترجمہ قرآن شریف کا زبان انگریزی میں کیا جائے اور مولوی محمدعلی صاحب کو اس کام پر لگایا جائے۔ ۱۹۰۹ء میں محمد علی نے مولوی نورالدین کی رہنمائی میں اس کام کا آغاز کیا جو سات       سال بعد تکمیل کو پہنچا۔ نورالدین نے ۲۳ پاروں کے ترجمہ کی سماعت بھی کی۔ محمد علی کے اردو ترجمہ (بیان القرآن) کے بھی چھ پارے ان (مولوی نور الدین) کی نظرون سے گزرے تفصیل کے لیے دیکھیے: ممتاز احمد فاروقی، مجاہد کبیر یعنی سوانح عمری حضرت مولانا محمدعلی امیرِ جماعتِ احمدیہ (لاہور: احمدیہ انجمنِ اشاعتِ اسلام، ۱۳۸۲ھ/ ۱۹۶۲ء)، ص ۵۸، ۷۲۔۷۳۔ ۸۰

(۷۱) اس ترجمہ کے (خود مولوی محمد علی کے بیان کردہ )خصائص کے بارے میں ملاحظہ ہو: ممتاز احمد فاروقی، مجاہدِ کبیر ، ص ۱۳۷۔۱۴۰۔ مزید دیکھیے:          شیخ محمد اکرام، موجِ کوثر (لاہور: ادارہٴ ثقافتِ اسلامیہ، ۱۹۹۷ء)، ص۱۸۱۔۱۸۲

(۷۲) عبدالماجد دریا بادی، ”عرض حال“، سچ (لکھنوٴ)، ۲۵ جون ۱۹۳۴ء، ص۵

(۷۳) ملاحظہ ہو: محمد علی جوہر بنام مرزا یعقوب بیگ، محررہ ۲۴ فروری ۱۹۱۸ء، در The Islamic Review(ووکنگ، یو کے)، دسمبر ۱۹۱۹ء، ص ۴۴۵ تا ۴۴۹

(۷۴) عبدالماجد دریابادی ، ”میری محسن کتابیں“، مشمولہ مولانا محمد عمران خان ندوی(مرتب)، مشاہیر اہلِ علم کی محسن کتابیں (کراچی: مجلسِ نشریاتِ اسلام،۲۰۰۴ء)، ص ۲۶۔۲۷؛ اکرام، موجِ کوثر، ص ۱۸۲؛ مولانا عبدالماجد دریا بادی اپنی متعدد تحریروں میں بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو: عبدالماجد دریابادی، حکیم الامت، ص ۳۱۸،۳۳۹۔۳۴۰ ؛وہی مصنف، ”عرض حال“، ص۴۔۵ ؛ وہی مصنف، آپ بیتی (کراچی: مجلس ِ نشریات اسلام، ۱۹۹۶ء)، ص۲۵۴ تا ۲۵۵؛ وہی مصنف، ”قرآن مجید کے انگریزی ترجمے“، ص ۱۳۸

(۷۵) دیکھیے: ابوالحسن علی ندوی، اسلامیات اور مغربی مستشرقین و مسلمان مصنفین، ص ۳۲۔۳۴۔ مولوی محمد علی لاہوری کے اردو      ترجمہ و تفسیر قرآن بیان القرآن کے بارے میں علماء نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ دیکھیے: ابوالحسن علی ندوی، قادیانیت: مطالعہ وجائزہ (کراچی: مجلسِ نشریات اسلام، ۱۹۸۵ء)، ص۱۷۹۔۱۹۲ ؛ عبدالماجد دریابادی (مرتب)، مکتوباتِ سلیمانی ( لکھنوٴ: صدقِ جدید   بک ایجنسی، ۱۹۶۷ء)، جلد ۲، ص ۳۳۔ محمد علی لاہوری کے دینی تفکر کے بارے میں ملاحظہ ہو:

Murray T. Titus, Islam in India and Pakistan (Karachi: Royal Book Company, 1990), pp. 255, 263; John Warwick Montgomery, "The Apologetic Approach of Muhammad Ali and Its Implications for Christian Apologetics", The Muslim World, vol. LI, no. 2 (April 1961),pp. 111-122.

(۷۶) محمد شفیع اسلم ، کار زارِِِ شدھی یعنی سر گزشتِ فتنہٴ ارتداد (لاہور: کریم پریس، ۱۹۲۴ء)۔ مزیددیکھے:سید غلام قطب الدین چشتی سہسوانی، ساڑھے چار لاکھ مسلمانوں کا شکار (بریلی: جماعت، مبارکہ رضائے مصطفی، ۱۹۲۳ء)؛ ایچ بی خان، برصغیر پاک و ہند کی سیاست میں علماء کا کردار (اسلام آباد: قومی ادارہ برائے تحقیق ِ تاریخ و ثقافت، ۱۹۸۵ء)، ص۲۵۶۔۲۶۳

(۷۷) دیکھیے: عبدالباری، فتنہ ٴ ارتداد اور مسلمانوں کا فرض ) لکھنوٴ: فرنگی محل، ۱۹۲۳ء(؛ سید ابوالحسن علی ندوی، حضرت مولانا محمدالیاس اور ان کی دینی دعوت(کراچی : مجلسِ نشریاتِ اسلام، ۱۹۷۹ء ) ؛ محمد ایوب قادری، تبلیغی جماعت کا تاریخی جائزہ (کراچی: مکتبہٴ معاویہ، ۱۳۹۱ھ /۱۹۷۱)؛ ایچ بی خان، برصغیر پاک و ہند کی سیاست میں علماء کا کردار، ص۲۶۳۔۲۷۲۔

(۷۸)فتنہٴ ارتداد کے انسداد کے لیے جمعیة العلماء ہند کی مساعی کے بارے میں ملاحظہ ہو:مولانا سید محمدمیاں، جمعیة العلماء کیا ہے؟ (لاہور: جمعیة علماء اسلام پاکستان،۲۰۰۴ء)، ص۱۴۵۔۱۴۶،۱۵۰۔۱۵۲، ۱۸۵۔۱۸۷، ۲۲۹ ؛ سید محبوب رضوی، تاریخ دارالعلوم دیو بند، جلد ۱، ص ۲۶۵؛ ایچ بی خان، برصغیر پاک و ہند کی سیاست میں علماء کا کردار، ص۲۶۶۔۲۶۸۔مزید دیکھیے: Khalid bin Sayeed, Pakistan: The Formative Phase 1857-1948 (Karachi: Oxford University Press, 1998), p. 58.

(۷۹) سید محمد میاں، جمعیة العلماء کیا ہے؟ (لاہور: جمعیة علماءِ اسلام پاکستان، ۲۰۰۴ء)، ص۲۱۳؛ پروین روزینہ (مرتب)، جمعیت العلماء ہند: دستاویزات مرکزی اِجلاس ہائے عام ۱۹۱۹ تا ۱۹۴۵ء( اسلام آباد: قومی ادارہ برائے تحقیق تاریخ و ثقافت، ۱۹۸۰ء)، جلد ۱، ص ۳۸۲

(۸۰) سید ابوالاعلیٰ مودودی، آفتاب، تازہ: الجمعیة دہلی میں ۱۹۲۷ء میں شائع ہونے والے اداریے اور مضامین (مرتبہ: خلیل احمد حامدی) ( لاہور: ادارہ ٴ معارف اسلامی، ۲۰۰۷ء)، ص۴۰۸ ۔۴۰۹

(۸۱) سید محمد میاں، جمعیةالعلماء کیا ہے؟، ص ۲۳۲؛ پروین روزینہ (مرتب)، جمعیة العلماء ہند، جلد ۱، ص ۴۵۸

(۸۲) تفصیل کے لیے دیکھیے: انوار الحسن شیر کوٹی، تجلیاتِ عثمانی (ملتان: ادارہٴ نشرالمعارف، ۱۹۵۷ء)، ص ۷۸۔۷۹

(۸۳) دیکھیے: صدیق جاوید، اقبال: نئی تفہیم (لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، ۲۰۰۳ء)، ص ۵۱۰ تا ۵۱۲۔ مزید دیکھیے:

 Annemarie Schimmel, Gabriel's Wing (Lahore: Iqbal Academy Pakistan, 1989), p. 221; Siddique Javed, "Iqbal and Rodwell's Translation of the Qur'an", Iqbal Review, 42:4 (October 2001): 141-166.

(۸۴) دیکھیے:

 Muriel Pickthall, "A Great English Muslim", Islamic Culture, vol. XI, no. 1 (January 1937), pp. 141-142.

(۸۵) سید سلیمان ندوی، یادِ رفتگان، ص ۱۷۲۔ پکتھال ہی نہیں بلکہ علامہ عبداللہ یوسف علی (۱۸۷۲۔۱۹۵۳ء) نے بھی محمد علی لاہوری کے ترجمہ و تفسیر کی زبان کو صریح طور پر کمزور قرار دیا ، جو ان کی رائے میں عربی زبان سے نا آشنا انگریزی خواں افراد کے لیے(مغربی) اپنے اندر کوئی جاذبیت اور کشش نہیں رکھتی ۔ دیکھیے: .Abdullah Yusuf Ali, The Holy Qur'an (Lahore: Sh. Muhammad Ashraf, 1934), vol. I, p. xv.

(۸۶) دیکھیے: Muhammad Marmaduke Pickthall, The Meaning of the Glorious Qur'an (Kuala Lumpur: Islamic Book Trust, 2001), "Translator's Foreword", p. viii; Muriel Pickthall, "A Great English Muslim", Islamic Culture, vol. XI, no. 1 (January 1937), pp. 138-142, esp. 141.

( ۸۷) دیکھیے: عبدالماجد دریا بادی، ”عرض حال“، سچ (لکھنوٴ)، ۲۵ جون ۱۹۳۴ء ، ص۴ ؛ عبدالماجد دریا بادی، ”قرآن مجید کے انگریزی ترجمے“، ص ۱۳۹؛ سید سلیمان ندوی، ”شذرات“، معارف (اعظم گڑھ)، ج ۳۴، شمارہ ۲ (اگست ۱۹۳۴ء)، ص ۸۲؛ضیاء الدین برنی، عظمتِ رفتہ، ص ۳۹۸

(۸۸) سید سلیمان ندوی، ”شذرات“، معارف (اعظم گڑھ)، جلد۳۴، شمارہ ۲ (اگست ۱۹۳۴ء)، ص ۸۲ ۔ مزید دیکھیے:Abdullah Yusuf Ali, The Holy Qur'an (Lahore: Sh. Muhammad Ashraf, 1934), vol. I, p. xv.

(۸۹) مالک رام (مرتب)، خطباتِ آزاد (نئی دہلی: ساہتیہ اکیڈمی، ۲۰۰۰ء )، ص ۲۵۲ تا ۲۵۳۔

(۹۰) عبدالماجد دریا بادی، حکیم الامت: نقوش و تأثرات، (وصی آباد، الہ آباد: سعدی بک ڈپو، ۱۹۹۰ء)،ص ۴۲۳

( ۹۱) سید سلیمان ندوی بنام عبدالماجد، محررہ ۲۱/ اپریل ۱۹۳۴ء، مشمولہ عبدالماجددریابادی (مرتب)، مکتوباتِ سلیمانی، ج۲، ص۳۵، و حاشیہ ۸۰۲۔

(۹۲) عبدالماجد دریا بادی، حکیم الامت، ص۴۲۳۔۴۲۴۔

( ۹۳) ایضاً، ص ۴۲۴۔

( ۹۴) دیکھیے:عبدالماجددریا بادی، حکیم الامت: نقوش و تاثرات (وصی آباد، الہ آباد:سعدی بک ڈپو، ۱۹۹۰ء)، ص ۳۱۶ و مواضع کثیرہ ۔ مزید دیکھیے: عبدالماجد دریابادی، آپ بیتی، ص ۲۹۳۔ مزید دیکھیے:

 Abdul Majid Daryabadi, Tafsir-ul-Qur'an:Translation and Commentary of the Holy Qur'an 5 vols.(Karachi: Darul Isha'at, 1991), vol. 1, "Preface", pp. vi-vii.

 

Statistics

Author(s):

Muhammad Arshad

Associate Professor of Urdu Encyclopedia of Islam

University of the Punjab, Lahore

Pakistan

Details:

Type: Article
Volume: 88
Issue: 2
Language: Urdu
Id: 6461f8473cb6b
Pages 35 - 76
Published June 20, 2013

Statistics

  • 197
  • 49
  • 89

Copyrights

Creative Commens International License
Creative Commons License
This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.