- ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE, Vol # 92, Issue # 4
- شان الحق حقی کی ادبی صحافت
شان الحق حقی کی ادبی صحافت
- Irfan Ahsan Pasha/
- December 31, 2017
LITERARY JOURNALISM OF SHANUL HAQ HAQQEE
Keywords
Shanul Haq Haqqee was a genius having multi-dimensional vision and knowledge. He was a great linguist, lexicographer, researcher, scholar, critic, translator, biographer, fiction writer, an acknowledged poet, a story writer for children, humorist, copywriter and a publicist. He exhibited his creativity by writing in various forms of Urdu literature. His writings in respect of credibility and correctness of language attained a high standard. He showed special interest in lexicography, which bore witness of his command on the language. He was inclined to literary journalism since his childhood and remained serving literary journalism in various capacities. This article sheds light on this particular aspect of his literary personality.
(۱) شان الحق حقی،خودنوشت ،’افسانہ درافسانہ‘ قسط ۰۳،مارچ۱۹۹۲ء، مشمولہ ماہنامہ ’افکار‘کراچی ص ۱۷
(۲) ڈاکٹرمحمد شمس الدین،’ابلاغِ عامہ کی نئی جہتیں‘،ص ا۰،مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد ۲۰۰۹ء
(۳) محمد عتیق صدیقی،’ہندوستانی اخبار نویسی‘،ص۳۵۸،انڈس پبلی کیشنز،فرید چیمبر عبداللہ ہارون روڈ،کراچی۱۹۸۰ء
(۴) بدرشکیب،’اردو صحافت‘،ص ۱۹۹،کاروانِ ادب کراچی،س /ن
(۵) سہ ماہی’ اردو‘کا پہلا شمارہ ۱۹۲۱ء میں اورنگ آباد (دکن)ہندوستان سے بابائے اردو مولوی عبدالحق نے انجمن ترقی اردو (ہند )کے تحت شائع کیا۔۱۹۳۶ ء میں انجمن کا دفتر دلّی منتقل ہوا۔سہ ماہی ’اردو‘ ۳۶ تا ۱۹۴۷ء تک یہیں سے نکلتا رہا۔ہجرت کے بعد۱۹۴۹ء کے وسط میں انجمن ترقی اردوپاکستان ،کراچی سے سہ ماہی ’اردو‘ جاری ہوا، جو بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق کی وفات۱۹۶۱ء تک باقاعدگی سے چھپتا رہا،پھر تعطل کے بعد۱۹۶۶ء سے تاحال وقفے وقفے سے شائع ہورہاہے انجمن ترقی اردوپاکستان کا دوسرا رسالہ ماہنامہ’ قومی زبان‘ قیام پاکستان سے قبل ’ہماری زبان‘ کے نام سے شائع ہوتا تھا۔انجمن ترقی اردو (ہند) کے تحت ہفت روزہ ’ہماری زبان‘ کی اشاعت اب بھی قائم ہے ،’قومی زبان‘ ابتدا میں پندرہ روزہ تھا، اکتوبر۱۹۶۳ء سے یہ ماہنامہ بنا اور اس کی ادارت مشفق خواجہ نے سنبھالی۔سہ ماہی ’اردو‘ کے دو اشاریے ۱۹۲۱ء تا ۱۹۶۲ء مرتبہ سید سرفراز علی رضوی اور ۱۹۶۶ء تا ۱۹۹۸ء مرتبہ مصباح العثمان،انجمن ترقی اردوپاکستان ،کراچی سے بالترتیب ۱۹۷۶ء اور ۲۰۰۲ء میں شائع ہوئے۔
(۶) حقی،قسط ۰۶،جنوری ۱۹۸۳ء، ص ۲۴
(۷) حقی،’اردونامہ‘ مشمولہ ’اشاریہ اردو نامہ‘،مصباح العثمان ،ص ۰۷،اردو ڈکشنری بورڈ کراچی،۱۹۹۷ء
(۸) سید یوسف بخاری کے جدِّ اعلیٰ سید عبدالغفور شاہ بخاری اپنے وقت کے جلیل القدرعالم ودرویش تھے۔۱۶۵۵ء میں جامع مسجد دہلی کی تعمیر سے اب تک منصب ِامامت انہیں کے خانوادے کے پاس ہے۔سید یوسف بخاری شمس العلما مولوی سید احمد، امام جامع مسجددہلی کے بھتیجے اور صاحب ِتصنیف اہلِ قلم تھے۔۱۹۵۹تا ۱۹۶۸ء ترقی اردوبورڈ میں شعبہ مطبوعات میں خدمات انجام دینے کے ساتھ ہی سہ ماہی ’اردونامہ‘ کے مینجر کے فرائض انجام دئیے ۔ان کے قلمی سرمائے میں خودنوشت ’دامن ِیوسف‘ ،’ہماری پہیلیاں‘ ،’یہ دلّی ہے‘، مولوی سید احمد دہلوی کی تصنیف ’رسومِ دہلی‘ پر دقیق مقدمہ، بچوں کے لئے’ شہزادہ گوہر‘ ،’فقیروں کا بادشاہ‘ اورکامیاب لڑکا شامل ہیں۔ ۸/جنوری ۱۹۹۱ء کو وفات پائی، تدفین پاپوش نگر قبرستان ناظم آبادکراچی میں ہوئی۔
(۹) مرزانسیم بیگ ۵/ جولائی ۱۹۴۷ء کو دہلی میں پیداہوئے،آپ کے والد گرامی اپنے وقت کے ماہر تیراک تھے۔شان الحق حقی نے تیراکی انھی سے سیکھی تھی۔مرزانسیم بیگ خود بھی تیراکی میں مشاق تھے۔انھوں نے ۱۱/اپریل ۱۹۶۷ء سے ۴/جولائی ۲۰۰۷ء تک اردو ڈکشنری بورڈ کراچی(ترقی اردوبورڈ) کراچی میں خادمِ اردو کی ملازمت کی۔حقی صاحب جب پاکستان ٹیلی ویژن میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے تو اس وقت مرزا صاحب نے پرکشش ملازمت کی پیشکش صرف اردو سے محبت کی وجہ سے ٹھکرادی۔خانگی مسائل اور دفتری مشکلات کے باوجود خوداری، جفاکشی، مہمان نوازی کا وصف بڑی شان سے برقراررکھتے ہوئے ایم اے(اردو) امتیازی حیثیت سے کیا۔ساتھ ہی تالیفی،تحقیقی،لسانی،علمی،ادبی،مشاغل بھی تسلسل سے جاری رکھے۔’فرہنگ ِتلفظ‘ ،’آکسفورڈ انگلش اردو ڈکشنری‘ میں شان الحق حقی اور’ لغاتِ اضداد ومترادفات‘ جو انجمن ترقی اردو پاکستان کراچی کا منصوبہ تھا،ڈاکٹر سہیل بخاری کی معاونت کی۔ذاتی تالیفات میں’ مخزن‘ ،’حدیث ِنعت‘ اور’ گلدستہء نگارش‘ مطبوعہ اور ’مقالاتِ نسیم زیر طبع ہے،کئی علمی وادبی تنظیموں میں فعال رکن کے شریک رہے۔ملک کے ممتازاخبارات وجرائد میں ان کے اردو لغت، اردو لغت بورڈ،لغت نویسی،لسانیات اور شخصیات پر مضامین اور انٹر ویو زینت بنے۔ سات سال سہ ماہی ’اردونامہ‘ کے منیجر اور اردولغت (تاریخی اصولوں پر) کے ۲۲/ مارچ۲۰۰۰ء تا ۱۷/ جنوری۲۰۰۱ء تک قائمقام مدیراعلیٰ رہے،آپ کی ادارت میں جلد ہفت دہم(سترویں جلد) لفظ (لوگن ،لھسینا، م تا مستز ادہ) ۲۰۰۰ء میں شائع ہوئی۔مرزاصاحب شان الحق حقی کے عاشق اور سچے پرستارتھے۔یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اردوڈکشنری بورڈ(ترقی اردوبورڈ کراچی) یاشان الحق حقی پر محققین کا کام مرزاصاحب کے تعاون کا محتاج رہاہے،مرزانسیم بیگ تصوف مائل شخصیت تھے۔۱۶/جولائی ۲۰۱۳ء بروز منگل وفات پائی۔
(۱۰) حقی،قسط ۳،مارچ ۱۹۹۲ء،ص ۲۲
(۱۱) ڈاکٹر ابوسلمان شاہجہاں پوری،’ترقی اردو بورڈ کی علمی خدمات پر ایک نظر‘،مشمولہ مجلہ ،’علم وآگہی‘ ۱۹۷۴ء، گورنمنٹ نیشنل کالج،کراچی،ص ۳۱۶
(۱۲) حقی ،اشاریہ’ اردونامہ‘ ،ص ۰۷
(۱۳) حقی،افتتاحیہ، ’جرات وفراست ِجنگ ‘، مشمولہ سہ ماہی ’اردونامہ‘ ،شمارہ ۲۱،جولائی تا ستمبر۱۹۶۵ء،ص ۰۴،ترقی اردو بورڈ کراچی
(۱۴) حقی،افتتاحیہ،’ اردوزبان کی تبدیلیوں کا معروضی جائزہ‘،’اردونامہ‘،شمارہ ۰۹،جولائی تا ستمبر ۱۹۶۲ء،ص ۰۲
(۱۵) حقی،افتتاحیہ،’اردو میں علاقائی الفاظ کی شمولیت کا مسئلہ‘،’اردونامہ‘،شمارہ ۲۹،اکتوبر۱۹۶۷ء،ص۰۶
(۱۶) حقی ،افتتاحیہ،’لغت میں ضرورت سے زیادہ مثالیں‘،’اردو نامہ‘،شمارہ ۲۳،مارچ ۱۹۶۶ء،ص۰۲
(۱۷) سہ ماہی ’اردونامہ‘ میں جوش صاحب کے پانچ مضامین (i) ’کچھ اردو کے باب میں‘ شمارہ ۰۱، ص ۰۷ (ii) ’حیاتِ متنبی‘، شمارہ ۰۲،ص ۰۵ (iii) ’دانش گاہِ فکروقلم ‘،شمارہ۰۳ ،ص ۰۵ (iv) ’نووارد شاعر‘، شمارہ ۱۵، ص ۵۶ (v)’یادوں کی برات‘، شمارہ۲۴ ص ۲۴ کے علاوہ سات نظمیں،کتاب،’ایضاح سخن بہ توضیح اصلاح ِسخن‘،مصنف، ’تمنا عمادی مجیبی پھلواروی‘ پر تبصرہ شامل ہونے کے باوجود،حقی صاحب کا یہ کہنا کہ جوش# صاحب نے ’اردونامہ‘ کے لئے ایک سطر بھی نہیں لکھی مناسب ہوتا کہ حقی صاحب کم ازکم یہ حقیقت بھی کھول دیتے کہ جوش#صاحب کی یہ نگارشات مطبوعہ تھیں یا غیر مطبوعہ یا یہ سب حقی صاحب نے خود یا کسی سے لکھواکر ازارہِ نیازمندی شائع کیا تھا اس بارے میں حقی صاحب خاموش ہیں۔
(۱۸) ’کتابِ زندگی‘ قیصری بیگم کی خودنوشت کو ان کی نواسی زہرا مسرور نے مرتب کرکے۲۰۰۳ء میں شان الحق حقی کے پیش لفظ کے ساتھ فضلی سنز لمیٹڈ،کراچی سے شائع کرائی۔ قیصری بیگم خان بہادر شرف الحق کی صاحبزادی اور حقی صاحب کی پھوپھی ہونے کے علاو ہ صاحب ِاسلوب ادیبہ تھیں۔
(۱۹) حقی،قسط ۰۳،مارچ ۱۹۹۲ء،ص ۲۳
(۲۰) حقی،’اشاریہ اردونامہ‘،ص ۰۸
(۲۱) ماہنامہ’ماہِ نو‘ کراچی کے بعد اسلام آباد اور اب لاہور سے شائع ہوتاہے جبکہ نریندر سیٹھی کی زیر ادارت یہ اپریل ۱۹۶۷ء میں ماہنامہ’ماہ نو‘ دہلی کا اجراء ہوا۔ (راقم)
(۲۲) ڈاکٹرمحمد اشرف کمال،’اردو ادب کے عصری رجحانات کے فروغ میں مجلہ‘ افکار،کراچی کا کردار ،ص ۴۷،انجمن ترقی اردوپاکستان،۲۰۰۸ء
(۲۳) شمشیر خان، ’پاکستان کے منتخبہ ادبی رسائل کا تاریخی ،تنقیدی وادبی جائزہ‘،ص ۸۲
(۲۴) حقی،قسط ۰۳،مارچ۱۹۹۲ء،ص۱۸
(۲۵) حقی صاحب کی ’ماہِ نو ‘سے قلمی وابستگی، جولائی۱۹۴۸ءء جلد ۰۱،شمارہ۰۴ میں شیکسپیئرکے ڈرامے انطنی وقلو بطرہ کے دو منظروں کے منظوم ترجمہ کی اشاعت سے قائم ہوچکی تھی۔ (راقم)
(۲۶) حقی،قسط ۰۳،مارچ۱۹۹۲ء،ص۱۸
(۲۷) محولہ بالا،ص۱۹
(۲۸) ش ح(حقی)’آپس کی باتیں‘،مشمولہ ماہنامہ’ماہِ نو‘،کراچی جون۱۹۶۷ء،ص ۰۶
(۲۹) ش ح(حقی)’ آپس کی باتیں‘،مشمولہ ’ماہِ نو‘،کراچی ،دسمبر۱۹۶۷ء،ص۰۶
(۳۰) ش ح(حقی)’ آپس کی باتیں‘،مشمولہ ’ماہِ نو‘،کراچی ،نومبر۱۹۶۵ء،ص ۰۶
(۳۱) اشرف،ص ۱۰۵
(۳۲) حقی،قسط ۰۶،جنوری۱۹۸۳ء،ص۲۰
(۳۳) نام معین احسن ،تخلص جذبی# جامعہ علی گڑھ کے شعبہ اردو سے وابستہ رہے۔ ۱۹۲۹ء سے شاعری شروع کی ،فانی# کا رنگ غالب ہے،مجموعہ کلام ’فروزاں‘ مقبولیت کی سند رکھتاہے۔ (راقم)
(۳۴) حقی،قسط ۰۶،جنوری ۱۹۸۳ء،ص ۲۰
(۳۵) شان الحق بی اے، نام کے ساتھ ڈگری لکھنے کی وجہ تسمیہ’آج کل‘ دہلی کے مدیرآغا محمد یعقوب دواشی تھے۔جونام کے ساتھ ڈگریاں ضرورلکھواتے،میرے اور شیش چندر طالب کے نام کے ساتھ بااصرارڈگری لکھواتے۔مزید دیکھئے خودنوشت’ افسانہ درافسانہ‘ کی قسط نمبر ۰۳ مشمولہ’افکار‘،کراچی مارچ۱۹۹۲ء ،ص ۱۷
(۳۶) حقی،قسط ۰۶،جنوری۱۹۸۳ء، ص۲۰
(۳۷) حقی،’تہنیت ِافکار کی وسعت‘،مشمولہ ہفت روزہ’اخبارِجہاں‘،کراچی شمارہ ۰۲،۱۵/جنوری ۱۹۶۶ء (۶۷ء)، کراچی، ص۰۴
(۳۸) ٰ حقی،خط بنام میرخلیل الرحمن،جنوری۱۹۶۷ء، مملوکہ سلمان حقی
(۳۹) حقی،’نوک جھوک‘،ص ۰۶،فیروزسنزلمیٹڈ کراچی،۲۰۰۶ء
(۴۰) ادارہ یادگارِ ’غالب‘# کراچی کا قیام جنوری ۱۹۶۸ء میں ہوا۔اس کے بانی صدر فیض احمد فیض# اور معتمد عمومی مرزا ظفر الحسن تھے۔یکم ستمبر ۱۹۷۱ء کو اس وقت کے ایڈیشنل چیف سکیریٹری ،حکومت سندھ،آفتاب احمد خان(موجودہ صدر انجمن ترقی اردو پاکستان) نے ادارے کے کتب خانے ’غالب لائبریری‘ کا افتتاح کیا۔
(۴۱) شش ماہی’ غالب# ‘کراچی،جنوری۱۹۷۵ء میں سہ ماہی پرچہ تھا اس کے مدیراعلیٰ فیض احمد فیض# اور مدیرمرزا ظفرالحسن تھے،ستمبر۱۹۷۷ء کو اس کا آخری شمارہ ’اقبال نمبر‘ نکلا۔شش ماہی ’غالب#‘ کا پہلاشمارہ (مشترکہ )جولائی تادسمبر ۱۹۸۷ء /جنوری تاجون ۱۹۸۸ء زیرادارت مختار زمن اور مشفق خواجہ شائع ہوا۔رسالے کا سرورق اور غالب لائبریری کی خطاطی صادقین کے مُوقلم کی ایک مستقل نشانی ہے۔شش ماہی’ غالب‘ کاآخری شمارہ ۱۹ ، ۲۰۰۰ء میں مختار زمن، رعنا فاروقی اور ڈاکٹر مشرف احمد کی ادارت میں شائع ہوا۔پھر بارہ سال کے تعطل کے بعد شمارہ۲۰ سے ’غالب‘ کو کتابی سلسلے میں تبدیل کردیا گیا،اس کا پہلا شمارہ ۲۰۱۲ء میں ڈاکٹر رؤف پاریکھ کی ادارت میں منظر عام پر آیا۔
(۴۲) مجلہ ’تخلیق ‘بزم ادب وفاقی گورنمنٹ اردو سائنس کالج گلشن اقبال کراچی کے تحت شائع ہوا،جس کے سرپرست پروفیسر محمد اکرام الرحمن(پرنسپل) نگراں پروفیسر اے کے آفتاب زبیری،مدیر حسن وقار گل#(پروفیسر ڈاکٹروقار حسن گل#)تھے۔مجلہ کا صرف ایک ہی شمارہ آسکا۔اس سے قبل ممتاز ادیب مشفق خوا جہ نے ۱۹۵۶ء میں ماہنامہ ’تخلیق‘، کراچی سے جاری کیا جوپہلے شمارے کی اشاعت کے بعد بندہوگیا۔
(۴۳) حقی،قسط ۲۳،نومبر ۱۹۹۳ء،ص ۲۰
(۴۴) حقی،قسط۰۳،مارچ۱۹۹۲ء،ص۱۷
How to cite
Pasha, I. A. (2022). شان الحق حقی کی ادبی صحافت. ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE, 92(4), 57–82. https://ocm.pu.edu.pk/website/journal/article/627f4658bef5b/page
Retrieved from https://ocm.pu.edu.pk/website/journal/article/627f4658bef5b/page
More citation formats
- ACM SIG Proceedings
-
[1]Pasha, I.A. 2022. شان الحق حقی کی ادبی صحافت. ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE. 92, 4 (May 2022), 57–82.
- ACS Nano
-
(1)Pasha, I. A. شان الحق حقی کی ادبی صحافت. ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE 2022, 92 (4), 57–82.
- ABNT
-
PASHA, Irfan Ahsan. شان الحق حقی کی ادبی صحافت. ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE, v. 92, n. 4, p. 57–82, 14 May2022.
- Chicago (author-date)
- Harvard (Cite Them Right)
-
Pasha, I.A. (2022) “شان الحق حقی کی ادبی صحافت”, ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE, 92(4), pp. 57–82. Available at: https://ocm.pu.edu.pk/website/journal/article/627f4658bef5b/page (Accessed: 8 May 2026).
- IEEE
-
[1]I. A. Pasha, “شان الحق حقی کی ادبی صحافت”, ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE, vol. 92, no. 4, pp. 57–82, May 2022, Accessed: May 08, 2026. [Online]. Available: https://ocm.pu.edu.pk/website/journal/article/627f4658bef5b/page
- MLA
-
Pasha, Irfan Ahsan. “شان الحق حقی کی ادبی صحافت”. ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE, vols. 92, nos. 4, May 2022, pp. 57–82, https://ocm.pu.edu.pk/website/journal/article/627f4658bef5b/page.
- Turabian (full note bibliography)
-
Pasha, Irfan Ahsan. “شان الحق حقی کی ادبی صحافت”. ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE 92, no. 4 (May 14, 2022): 57–82. Accessed May 8, 2026. https://ocm.pu.edu.pk/website/journal/article/627f4658bef5b/page.
- Vancouver
-
1.Pasha IA. شان الحق حقی کی ادبی صحافت. ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE [Internet]. 2022 May 14 [cited 2026 May 8];92(4):57–82. Available from: https://ocm.pu.edu.pk/website/journal/article/627f4658bef5b/page
- AMA
-
1.Pasha IA. شان الحق حقی کی ادبی صحافت. ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE. 2022;92(4):57–82. Accessed May 8, 2026. https://ocm.pu.edu.pk/website/journal/article/627f4658bef5b/page
Download citation Endnote/Zotero/Mendeley (RIS) BibTeX
-
سر سید احمد خان کا سفرنامہ ”مسافرانِ لندن“ استعمار مخالف بیانیہ
Shafaat Yar Khan, Amra Raza
-
سرسیدکے خطوط ان کی اصلاحی کاوشوں کا عکس جمیل
Nadeem Abbas
-
فنونِ لطیفہ اور اقبال کا تصور موسیقی ورقص
Yasmeen Sarwar
-
ڈاکٹر جمیل جالبی کی تنقید
Sumaira Anjum
-
مدار الافاضل : اکبری عہد کا ایک اہم فارسی لغت
Zahida Naaz
-
میرا جی کے افسانے: تحقیق و تجزیہ
Sumaira Anjum
-
منوبھائی کی ڈراما نگاری: ایک مطالعہ
Ahmad Bilal
-
ڈاکٹر درمش بلگر :ایک ترک اردو دان ایک تعارفی مطالعہ
Dr. Imran Ali
-
مولانا عبد الحامد بدایونی : حیات و خدمات
Aqeel Ahmad
-
ابتدائی صفحات
Editor Oriental College
Author(s):
Irfan Ahsan Pasha
Assistant Professor of UrduUniversity of Education, Lahore
Pakistan
- irfan.ahsan@ue.edu.pk
Details:
| Type: | Article |
| Volume: | 92 |
| Issue: | 4 |
| Language: | Urdu |
| Id: | 627f4658bef5b |
| Pages | 57 - 82 |
| Published | December 31, 2017 |
Statistics
|
|---|
Copyrights
| Creative Commens International License |
|---|

This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.