References
(۱) طاہرہ صدیقہ ،”کئی چاند تھے سرِآسماں۔ ایک جائزہ“، مشمولہ، بنیاد، جلد دوم، شمارہ۲،۲۰۱۲ء، ص۱۷۶
(۲) اے خیام، ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ایک تاثر“، مشمولہ، ہم عصراُردو ناول۔ایک مطالعہ، مرتبین: قمر رئیس، علی احمد فاطمی،دہلی:ایم ۔آر۔پبلی کیشنز،۲۰۰۷ء،ص۲۰۸
(۳) معید رشیدی،”کئی چاند تھے سرِآسماں“تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ“،مشمولہ،خدا لگتی،مرتبین:لئیق صلاح، سید ارشاد حیدر،حیدر آباد:الانصار پبلکیشنز،۲۰۱۲ء،ص۲۴۶
(۴) شمس الرحمن فاروقی ،کئی چاند تھے سرِ آسماں،کراچی:شہر زاد،۲۰۱۱ء،ص۷۹۲
(۵) ایضاً،ص ۵۸۷
(۶) ایضاً،ص۶۷۶
(۷) منصور احمد قریشی،ڈاکٹر،”کئی چاند تھے سرِ آسماں“کا تاریخی اور تہذیبی پس منظر“، مشمولہ، راوی، ۲۰۰۸ء،ص۴۳
(۸) ارشاد حیدر،سید،”کئی چاند تھے سرِ آسماں۔ایک مطالعہ“،مشمولہ،خدا لگتی،ص۸۰،۸۱
(۹) معید رشیدی،”کئی چاند تھے سرِ آسماں“تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ“،مشمولہ،خدا لگتی،ص۲۴۴
(۱۰) احمد محفوظ،”اُردو کا شاہکار ناول“،مشمولہ،خدا لگتی،ص۲۵،۲۶
(۱۱) غلام حسین ساجد،”کئی چاند تھے سرِ آسماں“،مشمولہ،خدا لگتی،ص۱۶۷
(۱۲) شمس الرحمن فاروقی ،کئی چاند تھے سرِ آسماں،ص۶۳۹
(۱۳) ایضاً،ص۵۴۲ (۱۴) ایضاً،ص۲۱۲
(۱۵) شمس الرحمن فاروقی نے ناول میں لارڈ بائرن کی مذکورہ نظم کے آخری مصرعے میں لفظ "Meets"لکھا ہے جب کہ اصل ماخذ میں "Meets"کی بجائے لفظ"Meet" درج ہے:
Lord Byron, Byron Poetical Works, London: Oxford University Press, Third Edition 1974, P77
(۱۶) شمس الرحمن فاروقی،کئی چاند تھے سرِ آسماں،ص ۲۳۱
(۱۷) ایضاً،ص۶۵۶ (۱۸) ایضاً،ص ۸۰۶ (۱۹) ایضاً،ص ۵۰۱
(۲۰) وحید الرحمن خان،ڈاکٹر،”وزیرخانم اور امراوٴ جان ادا:تقابلی مطالعہ“،مشمولہ ،اورینٹل کالج میگزین لاہور، جلد نمبر۸۷،اکتوبر تا دسمبر ۲۰۱۲ء، ص۱۵۲
(۲۱) شمس الرحمن فاروقی ،کئی چاند تھے سرِ آسماں،ص۱۵۰
(۲۲) ایضاً،ص ۳۹۴،۳۹۵ (۲۳) ایضاً،ص۱۳۷ (۲۴) ایضاً،ص ۴۵
(۲۵) ممتاز احمد خان،ڈاکٹر،اُردو ناول کے ہمہ گیر سروکار،لاہور:فکشن ہاوٴس،۲۰۱۲ء،ص۲۲
(۲۶) مظہر جمیل،سید،”کئی چاند تھے سر آسماں“،مشمولہ،خدا لگتی،ص۱۲۳،۱۲۴
(۲۷)ایضاً،ص ۲۲۷ (۲۸) ایضاً،ص ۳۷۷ (۲۹) ایضاً،ص ۷۲۶
(۳۰) ایضاً،ص۳۹۱،۳۹۲ (۳۱) ایضاً،ص۱۷
(۳۲) ڈاکٹرشاہین مفتی نے زیر بحث ناول کوایک ”فکری تمثیلیہ“ قرار دیا ہے،جو بڑی حد تک قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے۔
۔ شاہین مفتی،ڈاکٹر،شمس الرحمن فاروقی کی ”بنی ٹھنی“،مشمولہ،قومی زبان کراچی،جلد نمبر۷۸،شمارہ نمبر ۱۰، اکتوبر۲۰۰۶ء،ص ۲۵
(۳۳) منصور احمد قریشی،ڈاکٹر،”کئی چاند تھے سرِ آسماں“کا تاریخی اور تہذیبی پس منظر“، مشمولہ، راوی،ص۴۱
(۳۴) شگفتہ حسین،’وزیر بیگم‘:کردار نگاری کی ایک مثالی جہت،مشمولہ،معیار،جلد نمبر۱،شمارہ نمبر۱، جنوری تا جون۲۰۰۹ء،ص۲۳۸
(۳۵) مظہر جمیل،سید،”کئی چاند تھے سرِ آسماں“،مشمولہ،خدا لگتی،ص۸۴
Author(s):
Muhammad Shahbaz
Lecturer in UrduGovt. Islamia College, Civil Lines, Lahore
Pakistan
- szgiccl@gmail.com
Details:
| Type: | Article |
| Volume: | 90 |
| Issue: | 4 |
| Language: | Urdu |
| Id: | 6307041708d31 |
| Pages | 131 - 148 |
| Published | December 31, 2015 |
Copyrights
| Creative Commens International License |
|---|

This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.