Oriental College Magazine, Punjab University - Lahore

ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE

Principal Oriental College, University of the Punjab, Lahore
ISSN (print): 1991-7007
ISSN (online): 2789-4657
References

(۱) سہیل بخاری،ڈاکٹر۔اُردو ناول نگاری۔لاہور:مکتبہ جدید،۱۹۶۰ء،ص۲۸

(۲) مظہر جمیل،سید۔”کئی چاند تھے سرِآسماں“،مشمولہ سمبل۔راولپنڈی: جنوری تا مارچ ۲۰۰۷ء، ص۳۱۷،۳۱۸

(۳) پینت کمار۔”کئی چاند تھے سر آسماں“ادب کا بے مثال ،لازوال سرمایہ“،مشمولہ خدا لگتی۔ مرتبین :لئیق صلاح، ارشاد حیدر،حیدر آباد: الانصار پبلیکیشنز،۲۰۱۲ء ص۳۵

(۴) رخسانہ بی بی۔”کئی چاند تھے سر آسماں“اور”غلام باغ“میں کار فرما تاریخی تصورات کا تقابلی جائزہ“،مشمولہ خدالگتی۔ ص۵۸

(۵) احمد محفوظ۔”اُردو کا شاہکار ناول ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“،مشمولہ نئی کتاب ۔دہلی:اپریل تا جون، ۲۰۰۷ء، ص۹۴

(۶) ضمیر حسین دہلوی،سید۔”دلی والے“،مشمولہ دلی کی تہذیب۔مرتب:انتظار مرزا،ڈاکٹر ،دہلی:اُردو اکادمی، ۱۹۸۷ء، ص۷۴

(۷) ارشاد حیدر،سید۔”کئی چاند تھے سر آسماں۔ایک مطالعہ“،مشمولہ خدالگتی۔ص۷۳

(۸) منصور احمد قریشی،ڈاکٹر۔”کئی چاند تھے سرِ آسماں“کا تاریخی اور تہذیبی پس منظر“،مشمولہ راوی۔ لاہور: ۲۰۰۸ء، ص۴۲

(۹) شمس الرحمن فاروقی۔کئی چاند تھے سر آسماں۔کراچی :شہر زاد،۲۰۱۱ء،ص ۳۷۱

(۱۰) ایضاً۔ص ۶۳۸                            (۱۱) ایضاً۔ص ۴۸۸

(۱۲) شگفتہ حسین۔”وزیر بیگم:کردار نگاری کی ایک مثالی جہت“،مشمولہ معیار۔اسلام آباد:جلد نمبر۱،شمارہ نمبر۱، جنوری تا جون،۲۰۰۹ء،ص۲۴۰

(۱۳) شمس الرحمن فاروقی۔کئی چاند تھے سر آسماں۔ص ۲۲۵

(۱۴) فیروز عالم۔”اُردو ناول کی تاریخ کا سنگ میل“،مشمولہ خدا لگتی۔ص۱۸۵

(۱۵) شمس الرحمن فاروقی۔کئی چاند تھے سر آسماں۔ص۱۲

(۱۶) ایضاً۔ص۸۳                              (۱۷) ایضاً۔ص۲۰۹

(۱۸) ایضاً۔ص۵۱۸                             (۱۹) ایضاً۔ص۱۳۹

(۲۰) سیدعبداللہ،ڈاکٹر۔میر امن سے عبدالحق تک۔لاہور:مجلس ترقی ادب،۲۰۰۵ء،ص۳۱

(۲۱) شمس الرحمن فاروقی۔کئی چاند تھے سر آسماں۔ص ۶۲۳

(۲۲) مظہر جمیل،سید۔”کئی چاند تھے سرِآسماں“،مشمولہ سمبل۔ص۳۱۷

(۲۳) شائستہ سہروردی اکرام اللہ۔ دلی کی خواتین کی کہاوتیں اور محاورے۔کراچی: اوکسفورڈپریس، ۲۰۰۶ء، ص۱۵

(۲۴) شمس الرحمن فاروقی۔کئی چاند تھے سر آسماں۔ص ۶۰۶

(۲۵) راقم نے طوالت اور تکرار کے نقص سے بچنے کے لیے تمام محولہ ضرب الامثال کے آگے قوسین() میں ناول ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“کے صفحہ نمبر درج کر دیے ہیں اوراُنھیں حوالے وحواشی کی ذیل میں شامل نہیں کیا۔

(۲۶) شمس الرحمن فاروقی۔کئی چاند تھے سر آسماں۔ص ۱۴۸

(۲۷) ایضاً۔ص ۵۰۱                (۲۸) ایضاً۔ص ۵۴۳

(۲۹) راقم نے طوالت اور تکرار کے نقص سے بچنے کے لیے تمام محولہ عربی اقتباسات کے آگے قوسین( ) میں ناول ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“کے صفحہ نمبر درج کر دیے ہیں اوراُنھیں حوالے وحواشی کی ذیل میں شامل نہیں کیا۔

(۳۰) شمس الرحمن فاروقی۔کئی چاند تھے سر آسماں۔ص ۶۲۱

(۳۱) ایضاً۔ص۱۴۶                 (۳۲) ایضاً۔ص۶۰۳

(۳۳) ذاکر حسین۔”کئی چاند تھے سرِ آسماں نوبل انعام کا مستحق ناول“،مشمولہ خبر نامہ شب خوں۔الٰہ آباد:جنوری تا جولائی ، ۲۰۰۷ء،ص۶۱

(۳۴) ظہیر آفاق،ڈاکٹر۔”شمس الرحمن فاروقی کا اندازِ گل افشانی“،مشمولہ روشنائی۔ کراچی: جولائی۲۰۰۳ء،ص ۱۳۳

Author(s):

Muhammad Shahbaz

Lecturer in Urdu

Govt. Islamia College, Civil Lines, Lahore

Pakistan

  • szgiccl@gmail.com

Details:

Type: Article
Volume: 91
Issue: 3
Language: Urdu
Id: 62c295e90bb44
Pages 123 - 132
Published September 30, 2016

Copyrights

Creative Commens International License
Creative Commons License
This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.