References
(۱) عروض میں عروضی وقفے کوتناوب(تقسیم،معین فاصلہ) کہاجاتاہے جب کہ پنگل میں بسرام اور متناوب اوزان کوبسرامی چھندسے موسوم کیاجاتاہے ۔ المعجم فی معاییراشعارالعجم ،معیارالاشعار،عروضِ سیفی اورعروضِ ہمایوں میں متناوب اوزان کامختصر ذکرملتاہے ؛بخلاف ازیں یہ اوزان بیسویں صدی کے اوائل میں اپنے امتیازی خدوخال اورساختی تقاضوں کے حوالے سے فارسی واردو ماہرین عروض کے زیر ِبحث آئے اور شعرانے بھی ماضی کی بہ نسبت ان کا زیادہ استعما ل کیا۔اس زیادہ استعمال کی وجوہ میں شعرامیں جدت وانفرادیت کے احساس کے تحت نئے آہنگوں کی تلاش اور موسیقی سے اثرپذیری شامل ہے۔
(۲) بیش ترعروضی ماہرین ان اوزان کی چہارخانگی کی بناپر اس زحافی عمل کے جوازکے حامی ہیں۔ شعرانے اس جوازسے نظم ا ورغزل میں بہت فائدہ اٹھایا ہے ۔ متذکرہ زحافی عمل سے پیداہونے والی اضافی آواز شعرکی تحت اللفظ ادائیگی میں نقصِ روانی کاسبب نہیں بنتی جب کہ ترنم میں گلوکارکے لیے کسی قدر مسئلہ پیدا کرتی ہے ؛ جس کے نتیجے میں وہ اضافی آوازنہیں دیتایادیتاہے توملائمت سے اورماقبل حرف میں اشباع پیداکرتاہے۔
(۳) پرویز ناتل، دُکتر، تحقیقِ انتقادی در عروضِ فارسی، تہران: دانشگاہِ تہران، ۱۳۲۷ھ ش ،ص۹۵
(۴) جزوی انطباق سے مرادیہ ہے کہ شعرکے ہرجزوکامتن بحرکے ہردومقررہ ارکان کے مجموعی وزن کے مطابق ہو؛جبکہ کُلّی انطباق لازم ہے نہ ممکن۔
(۵) الباقلانی،محمدبن طیب،علامہ، اعجازالقرآن (تحقیق:سیداحمدصقر)، قاہرہ: دارالمعارف، طبعة الخامسہ۱۹۸۱ء،ص ۹۰
(۶) حفیظ صدّیقی،ابوالاعجاز،تفہیم وتحسینِ شعر، لاہور:سنگت پبلشرز، ۲۰۰۶،ص۹۸
(۷)حفیظ صدیقی، ابولاعجاز، اوزانِ اقبال، لاہور: شیخ غلام علی اینڈ سنزپبلشرز، ۱۹۸۳ء،ص۲۶۸
(۸)محقق طوسی کی عبارت حسبِ ذیل ہے:- مفعولُ مفاعیلن چہاربار،مسمط چہارخانہ برین وزن خوش آید۔ مثالش:
گفتی بکشم یاری آن یارمنم آری
گرکشتہ شوم باری درپای تواولیٰ تر
اسیر،مظفرعلی، زرِکامل عیار ترجمہ معیارالاشعارازطوسی، لکھنوٴ :اترپردیش اردو اکادمی، ۱۹۸۳ء،ص۱۴۴
Author(s):
Abdul Shakoor Shakir
Assistant Professor of UrduGovt. College Satellite Town, Gujranwala
Pakistan
- abdulshakoor3454@gmail.com
Details:
| Type: | Article |
| Volume: | 95 |
| Issue: | 1 |
| Language: | Urdu |
| Id: | 625f89a3c9c9b |
| Pages | 7 - 24 |
| Published | March 31, 2020 |
Copyrights
| Creative Commens International License |
|---|

This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.