References
(۱) نظامی کامکمل نام جمال الدین ابو محمد الیاس بن یوسف بن زکی بن موٴیدہے ۔جیسا کہ خود بیان کرتا ہے: گر شد پدرم بہ سنت جدیوسف، پسر زکی موٴید (نظامی، خمسہ، لیلیٰ و مجنون، بخش ۱۰، یاد کردن بعضی از گذشتگان خویش)
اس کی ماں کرد قبیلہ سے تعلق رکھتی تھی۔ نظامی موجودہ زمانے کے ملک آذربائیجان کے شہر گنجہ میں پیدا ہوئے اور اسی اعتبار سے گنجوی کہلائے۔ تاریخ پیدائش ۵۴۰ھ سے ۵۴۲ ھ کے درمیان قیاس کی جاتی ہے ۔ تاریخ وفات کا تعین بھی ۵۹۹ھ سے ۶۰۲ھ کے درمیان کیا جاتا ہے۔ نظامی گنجوی متداولہ علوم عقلی و نقلی میں دسترس رکھتے تھے اور علاوہ ازیں تصوف وعرفان سے بھی بہرہ ور تھے۔ فارسی و عربی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ نیزادبی علوم میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ مزید تفصیلات کے لیے رجوع کریں: احمد ، ظہورالدین، الف، ص۹۲
(۲) خمسہٴ نظامی پانچ عظیم مثنویوں مخزن الاسرار، خسرو و شیرین، لیلیٰ و مجنون، ہفت پیکر اور اسکندر نامہ پر مشتمل ہے ۔ ان مثنویوں کے مجموعی اشعار کی تعداد ۲۸۰۰۰ کے لگ بھگ ہے ۔ مزید تفصیلات کے لیے رجوع کریں: بدخشانی ،مرزا مقبول بیگ، صص ۳۸۹-۳۹۱
(۳) برصغیر اور ایران کے کئی عظیم شعرا نے نظامی گنجوی کی پیروی میں خمسہ لکھا، جن میں طوطی ہند امیر خسرو (۱۲۵۳۔ ۱۳۲۵ء) (مطلع الانوار، شیرین و خسرو، مجنون و لیلیٰ، ہشت بہشت، آئینہ اسکندری)، وحشی بافقی (۱۵۳۲۔ ۱۵۸۳ء) (مثنوی فرہاد و شیرین)، ملک الشعرا فیضی فیاضی (۱۵۴۷۔ ۱۵۹۵ء) (سلیمان و بلقیس، نل و دمن، ہفت کشور، مرکز ادوار، داستان گیتا)، عرفی شیرازی (۱۵۵۵۔ ۱۵۹۱ء) (مثنوی شیرین و فرہاد) اورکلاسیکی روایت کے خاتم الشعرا عبدالرحمان جامی (۱۴۱۴۔ ۱۴۹۲ء) (تحفة الاحرار، یوسف و زلیخا، لیلیٰ و مجنون، خردنامہٴ اسکندری) جیسے نامور اہل سخن شامل ہیں۔ ان سبھی شعرا نے فن شعر گوئی اور داستان سرائی میں نظامی کی فضیلت کا اعتراف کیا ہے ۔
(۴) نظامی نے خود شاعرانہ تعلّی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے :
سخن چون گرفت استقامت بہ من اقامت کند تا قیامت بہ من
منم سرو پیرای باغ سخن بہ خدمت کمر بستہ چو سرو بن
(نظامی، خمسہ، شرف نامہ، بخش ہفتم)
مزید کہتا ہے:
عاریت کس نپذیرفتہ ام آنچہ دلم گفت، بگو، گفتہ ام
(نظامی، خمسہ، مخزن الاسرار، بخش ۱۲، در مقام و منزلت این نامہ)
(۵) برصغیر میں مثنوی مخزن الاسرار کو اپنے دلنشیں اسلوب اور پرمغز موضوع کے سبب بالخصوص جو غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہوئی، اس کی مثال ڈھونڈنا دشوار ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فارسی میں اس موضوع کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی سطح پر ایک تحقیقی مقالہ بھی لکھا گیا، جو مرکز تحقیقات فارسی ایران و پاکستان اسلام آباد کے زیر اہتمام زیور طباعت سے بھی آراستہ ہو چکا ہے۔ رجوع کریں: انجم حمید، مخزن الاسرار نظامی گنجوی و استقبال مخزن الاسرار در شبہ قارہ
(۶) کلیات نظامی گنجوی تہران سے نامور ایرانی محقق وحید دستگردی کے زیر اہتمام شائع ہوا ہے، جس کا مقدمہ خود وحید دستگردی ہی نے تحریر کیا ہے۔ نظامی گنجوی کے احوال و آثار اور شاعرانہ خصوصیات کو جاننے کے لیے رجوع کریں: نظامی گنجوی ، کلیات بہ تصحیح وحید دستگردی
(۷) عظیم ایرانی محقق اور مخطوطات کے ماہر استاد احمد منزوی نے اسلام آباد میں اپنے سالہاسال پرمحیط قیام کے دوران پاکستان میں فارسی مخطوطات کی ایک عظیم مشترکہ فہرست مرتب کی، جو متعدد جلدوں میں فہرست مشترک نسخہ ہائے خطی پاکستان کے زیرعنوان مرکز تحقیقات فارسی ایران و پاکستان اسلام آباد کے زیراہتمام شائع ہوئی ہے۔ اسی فہرست میں زیرنظر شرح مثنوی مخزن الاسرار کے قلمی نسخوں کی تفصیلات بھی ملتی ہیں۔ رجوع کریں: منزوی ، احمد، جلد سوم، صص۱۶۵۷ تا ۱۶۵۹
(۸) سورةالاعراف، آیت ۵۴
(۹) مرصاد العباد: نجم الدین رازی، ص۶۵ و ۲۱۱
(۱۰) سورةالفتح ، آیت ۲۹
(۱۱) سورةالاحزاب، آیت ۷۲
(۱۲) سورةالنباء، آیات ۱۰۔۱۱
(۱۳) سورةهود، آیت۵۶
(۱۴) بحارالانوار: محمد باقر مجلسی، جلد ۱۵، ص ۲۸
(۱۵) عن أبي هریرة رضی الله عنه عن النبی صلی الله و عليه وسلم: کلُّ أمرٍ ذی بال لم یُبدأُ فيه بسم الله فهوَ أبتر؛ ابن ماجہ، ۱۸۹۴؛ ابوداوٴد، ۴۸۴۰؛ والنسایی ۱۰۳۲۸ (ضعیف)
(۱۶) إن قلوبَ بنی آدم کلها بین إصبعین من أصابع الرحمٰن؛ مسلم ۲۶۵۴
(۱۷) رجوع کریں: سعدی شیرازی، بوستان، در نیایش خداوند، سر آغاز، ص ۳۴
(۱۸) سورة آل عمران، آیت ۲۷
Author(s):
Muhammad Nasir
Chairman Department of PersianUniversity of the Punjab, Lahore
Pakistan
- nasir.persian@gmail.com
Tehmina Akbar
PhD Scholar PersianUniversity of the Punjab, Lahore
Pakistan
Details:
| Type: | Article |
| Volume: | 96 |
| Issue: | 2 |
| Language: | Urdu |
| Id: | 6223035127e90 |
| Pages | 23 - 38 |
| Published | June 30, 2021 |
Copyrights
| Creative Commens International License |
|---|

This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.