References
(1) منشی شیو نرائن آرام (پ:1834-م:1894)،اردو فارسی تعلیم کے ساتھ مسٹر فیلن سے انگریزی بھی پڑھی۔ گارساں دتاسی کے بیان کے مطابق دہلی کالج میں پڑھے اور وہاں پروفیسر بھی رہے ۔آگرہ سے " مفید خلائق " اخبار نکالا اور اسی نام سے آگرہ میں مطبع بھی جاری کیا۔علاوہ ازیں آفتاب عالم داغ ،معیار الشعرا ،بغاوت ہند ،اخبار بھی نکالتے تھے۔غالب کی تصنیف بزبان فارسی 'دستنبو' پہلی مرتبہ اسی مطبع سے چھپی۔غالب کے ساتھ1858ءسے 1860ء تک خاصی خط و کتابت رہی۔مئی 1863ء میں یہ سلسلہ ختم ہوگیا ۔(بحوالہ خطوط غالب کامل ،مرتبہ:غلام رسول مہر، لاہور: شیخ غلام علی اینڈ سنز،بار سوم،1962،ص:239)
(2) جملہ " جو تم نے مجھے تھے ہونا چاہیے تھا" لیکن پروف اور تدوینی مسائل پر توجہ نہ ہونے کے سبب اس طرح کے تسامحات نے خطوط غالب کی ادبی وقعت پر اثر ڈالا ہے ۔ڈاکٹر خلیق انجم نے اس جانب توجہ مبذول کروائی ہے کہ آج تک غالب کے خطوط کا کوئی مجموعہ اتنا غلط نہیں چھپا ،جتنا کہ " خطوط غالب" ہے ۔متن کی حالت یہ ہے کہ کوئی صفحہ ایسا نہیں ہے جس میں آٹھ دس سے کم غلطیاں ہوں۔(غالب کے خطوط ،جلد اول ،مرتبہ: خلیق انجم ،کراچی: انجمن ترقی اردو پاکستان ،اشاعت سوم ،2008ء،52)۔
(3) غلام رسول مہر ، خطوط غالب ،کامل ، (لاہور: شیخ غلام علی اینڈ سنز،بار سوم ،1962ء)،7۔
(4) خلیق انجم ، غالب کے خطوط ، (کراچی: انجمن ترقی اردو پاکستان ،اشاعت سوم ،2008ء )،۱: 93۔
(5) خلیق انجم ، غالب کے خطوط ، ۳: 1048،1049۔
(6) ایضاً،1365۔
(7) غلام رسول مہر ، خطوط غالب ،کامل ، 244۔
(8) خلیق انجم ، غالب کے خطوط ، ۳: 1054۔
(9) غلام رسول مہر ، خطوط غالب ،کامل ،246۔
(10) خلیق انجم ، غالب کے خطوط ، ۳: 1056۔
(11) ایضا ً،1059۔
(12) ایضاً، 1062۔
(13) غلام رسول مہر ، خطوط غالب ،کامل ، 251۔
(14) خلیق انجم ، غالب کے خطوط ، ۳: 1063۔
(15) غلام رسول مہر ، خطوط غالب ،کامل ، 252۔
(16) خلیق انجم ، غالب کے خطوط ، ۳: 1065۔
(17) ایضاً،1069۔
(18) غلام رسول مہر ، خطوط غالب ،کامل ، 257۔
(19) خلیق انجم ، غالب کے خطوط ، ۳: 1072۔
(20) غلام رسول مہر ، خطوط غالب ،کامل ، 258۔
(21) خلیق انجم ، غالب کے خطوط ، ۳: 1367،1074۔
(22) غلام رسول مہر ، خطوط غالب ،کامل ، 259۔
(23) خلیق انجم ، غالب کے خطوط ، ۳: 1075۔
(24) غلام رسول مہر ، خطوط غالب ،کامل ، 260۔
(25) خلیق انجم ، غالب کے خطوط ، 1075۔
(26) غلام رسول مہر ، خطوط غالب ،کامل ،261۔
(27) خلیق انجم ، غالب کے خطوط ، 1077۔
(28) ایضاً،1077۔
(29) ایضا ً،1079۔
(30) ایضاً ،1079۔
(31) غلام رسول مہر ، خطوط غالب ،کامل ، 263۔
(32) خلیق انجم ، غالب کے خطوط ، ۳: 1080،1368۔
(33) ایضاً ،1081۔
(34) غلام رسول مہر ، خطوط غالب ،کامل ، 264۔
(35) ایضا ً،265۔
(36) خلیق انجم ، غالب کے خطوط ، ۳: 1083۔
(37) ایضاً،1086۔
(38) غلام رسول مہر ، خطوط غالب ،کامل ، 267۔
(39) خط بنام منشی شیو نرائن آرام ،مشمولہ غالب کے خطوط ،۳: 1021۔
(40) ایضاً ،1073۔
(41) خلیق انجم ، غالب کے خطوط ، ۳: 1069۔
(42) انگریز اسے غدر کا نام دیتے ہیں۔
(43) خلیق انجم ، غالب کے خطوط ، ۳: 1071۔
(44) مکتوب بنام منشی شیو نرائن آرام ؔ ،محررہ سہ شنبہ 31 ماہ اگست 1858 ،راقم اسد اللہ،مشمولہ خطوط غالب ،کامل، مرتبہ: غلام رسول مہر ،لاہور ،بار سوم ،1962،242ء۔
(45) خلیق کے ہاں اس کا املا یہی ہے جبکہ غلام رسول مہرؔ نے " نرائن " لکھا ہے ۔
(46) خلیق انجم ، غالب کے خطوط ، ۳: 1079۔
(47) ایضا ً،1054۔
(48) خلیق انجم ، غالب کے خطوط ، ۳: 1054۔
(49) ایضاً،1085۔
(50) ایضا ً،1085۔
(51) ایضا ً،1085۔
vvv
Author(s):
Ata ur Rehman Meo
Associate Professor of UrduDepartment of Urdu, Superior University, Lahore
Pakistan
- dratta786@gmail.com
Hafiza Ayesha Saddiqa
PhD Research Scholar (Urdu)Lahore College for Women University, Lahore
Pakistan
- saddiqies90@gmail.com
Details:
| Type: | Article |
| Volume: | 101 |
| Issue: | 4 |
| Language: | Urdu |
| Id: | 6968a8cd3ac75 |
| Pages | 105 - 118 |
| Published | January 12, 2026 |
Copyrights
| Creative Commens International License |
|---|

This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.