Oriental College Magazine, Punjab University - Lahore

ORIENTAL COLLEGE MAGAZINE

Principal Oriental College, University of the Punjab, Lahore
ISSN (print): 1991-7007
ISSN (online): 2789-4657
References

حواشی

(۱) رابرٹ کیتھ پرنگل نوآبادیاتی عہد کی اہم شخصیتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے ۱۸۲۰ میں بمبئی سول سروس میں شمولیت اختیار کی اور اعلیٰ عہدو ں پر فائز رہے۔۱۸۴۷ ء میں وہ سندھ میں سرچارلس نیپئرکے جانشین ہوئے اور ۱۸۵۴ میں ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔ بک لینڈ(Buckland) Dictionary of Indian Biography (لندن:۱۹۰۵ء)، ص۳۴۳

(۲) انیسویں صدی میں اس کتاب کے عجائباتِ فرنگ کے عنوان سے دو ایڈیشن شائع ہوئے (منشی نول کشور، ۱۸۷۳ء، ۱۸۹۸ء) ۔ بیسویں صدی میں دو محققین ، ڈاکٹرمظفر عباس(لاہور: مکتبہٴ عالیہ، ۱۹۸۲ء) اور پروفیسر تحسین فراقی ( (لاہور: مکہ بکس، ۱۹۸۳ء)نے اس کے متن پر حواشی اور مقدمے لکھ کر اسے از سر نو مرتب کیا اور اس کا تحقیقی اور تنقیدی مطالعہ بھی کیا۔ اکیسویں صدی میں اکرام چغتائی نے اس کتاب کواس کے اصل نام یعنی ”تاریخ یوسفی“ (لاہور: سنگِ میک پبلی کیشنز، ۲۰۰۴ء)کے تحت از سر نو مرتب کیا اور اس کے اولین ایڈیشن (دہلی: ۱۸۴۷ء)کا عکسی نقل بھی شائع کیا۔

(۳) محمد اکرام چغتائی، پیش لفظ، تاریخِ یوسفی(لاہور: سنگِ میک پبلی کیشنز، ۲۰۰۴ء)، ص۱۱۔

(۴) اس سفرنامے کا ذکر جن اہم انگریزی کتابوں میں ہوا ہے، ان میں سے چند ایک یہ ہیں:

مائیکل ایچ۔ فشر (Michael H. Fisher)، Counterflows to Colonialism: Indian Travellers and Settlers in Britian 1600-1857 (دہلی: پرمننٹ بلیک (Permanent Black) ، ۲۰۰۴)، گلفشاں خان،Idian Muslims Perceptios of the West durig the Eighteenth Century (کراچی: اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس، ۱۹۹۸ء)، لویلن جونز (Llewellyn-Jones,Rosie)، Engaging Scoundrels: True Tales of Old Lucknow (نئی دہلی: اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس، ۲۰۰۰)

(۵) یوسف خان کمبل پوش، تاریخِ یوسفی، مرتبہ محمد اکرام چغتائی (لاہور: سنگِ میک پبلی کیشنز، ۲۰۰۴ء)،ص۵۳

(۶) سید محسن علی، سراپا سخن (لکھنوٴ: نول کشور، ۱۸۷۵ء) ، ص ۸۲بحوالہ تحسین فراقی، مقدمہ عجائباتِ فرنگ (لاہور: مکہ بکس، ۱۹۸۳ء)، ص۵۶۔

(۷) تحسین فراقی، ص۵۱۔                       (۸) مائیکل ایچ۔ فشر، ص ۳۰۹ ۔

(۹) روزی لویلن جونز(Rosie Llewellyn-Jones)، "Indian Visitors to England"، مشمولہ Engaging Scoundrels: True Tales of Old Lucknow ، ص ۸۶۔ ۱۲۴

(۱۰) ایضاً، ص ۹۹۔

(۱۱) روزی لویلن جونز نے پہلی طباعت کا عنوان ”سفر یوسف“ تحریر کیا ہے ، جو درست نہیں مگر محمد اکرام چغتائی صاحب کی تحقیق کے مطابق اس دور کے اخبارات و جرائد میں اس کتاب کا ذکر مختلف ناموں ہوتا رہا، جیسے سفرِ کمبل پوش یا سیرِیوسفی وغیرہ ۔ چغتائی، پیش لفظ، تاریخِ یوسفی، ص۱۱۔

(۱۲) روزی لویلن جونز(Rosie Llewellyn-Jones)،ص۹۹۔

(۱۳) گارسیں دتاسی، خطباتِ گارسیں دتاسی از ۱۸۵۰۔۱۸۶۹ء ( دکن:انجمن ترقی اردو ، اورنگ آباد، ۱۹۳۵ء) ، ص۳۱۸۔ ۳۱۹۔

(۱۴) انڈین میل کا پیر،۲۳ ستمبر، ۱۸۶۱ء کا یہ شمارہ برٹش لائبریری لندن میں موجود ہے اور اس کا متعلقہ اقتباس چغتائی صاحب نے اپنے پیش لفظ میں نقل کر دیا ہے۔ دیکھیے، چغتائی، پیش لفظ، تاریخِ یوسفی، ص۴۲۔ ۴۴

(۱۵) ان کے معاصرتذکرہ نگاروں میں سے عبد الغفور نسّاخ اور سید محسن علی نے انھیں آتش# کا شاگرد قرار دیا ہے لیکن راقم الحروف کو اسی لائبریری سے لکھنوٴ کے شعرا کا ایک تذکرہ ملا ہے جو ۱۸۵۶ اور ۱۸۸۷ء کے درمیانی دور میں لکھا گیا ہے اور اس میں کمبل پوش کاذکر نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے عہد میں شاعر کے طور پر زیادہ معروف نہیں تھے۔ محسن نے اپنے تذکرے میں ا ن کے بارے میں یہ مجمل معلومات فراہم کی ہیں، ”یوسف خان ولد رحمت خان غوری۔باشندہٴ لکھنوٴ۔شاگرد خواجہ حیدر علی آتش۔ “(محسن، ص۸۲)ناصر #نے بھی صرف اتنا لکھا ہے، ”خوش تقریر، شیریں بیان، یوسف خان یوسف، شاگردِ آتش#“، بحوالہ محمد انصار اللہ، مرتب جامع التذکرہ، جلد سوم (نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، ۲۰۰۷ء)، ص ۹۳۱۔

(۱۶) تحسین فراقی، ص۴۹۔

(۱۷) محمد اکرام چغتائی، ص ۲۸۔

(۱۸) ایشیاٹک جرنل اینڈ رجسٹر (دسمبر ۱۸۳۸ء)، ایشیاٹک انٹیلی جنس، ص ۲۶۸۔

            ((Gyananneshun, July 25. Asiatic Journal and register (December 1838), Asiatic Intelligence, 268              

(۱۹) کمبل پوش،تاریخ یوسفی، مرتبہ محمد اکرام چغتائی، ص ۱۷۹

(۲۰) ایضاً ، ص۱۷۵

(۲۱) تاریخ یوسفی میں کمبل پوش نے اسے کپتان منکنس لکھا ہے اور یہی املامحمد اکرام چغتائی نے بھی اختیار کیا ہے۔ لوویلن جونز نے کپتان میگنس کے لقب (یا خطاب ) ممتاز خان سے دھوکا کھا کراسے ممتاز خان بنگش لکھا ہے جو درست نہیں،لویلن جونز،ص۱۰۰

(۲۲) کمبل پوش،تاریخ یوسفی، ص ۵۳۔

(۲۳) لویلن جونز، ص۸۶۔

(۲۴) ڈبلیو۔ایچ۔ سلیمن(W.H. Sleeman)، ”A Journey Through the Kingdome of Oude “ حصہ اول و دوم (نئی دہلی، چنائے: ایشین         ایجوکیشن سروسز، ۲۰۰۶)۔

(۲۵) ولیم نائٹن (William Knighton) ، The Private Life of an Eastern King Together with Elihu Jan's Story or the Private Life of an Eastern Queen (لندن: ۱۸۵۵ء)

(۲۶) تفصیل کے لیے دیکھیے، مسیح الدین علوی، سفیرِ اودھ (لکھنوٴ: دارالناظر پریس ، ۱۹۲۹ء) اور عبد الحلیم شرر، گذشتہ لکھنوٴ، مرتب محمد اکرام چغتائی (لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز، ۲۰۰۶ء)۔

(۲۷) مولوی محمدمسیح الدین خان بہادر، Oudh: Its Princes and Its Government Vindicated (لندن: جون ڈیوی اینڈ سنز، ۱۸۵۷ء) ، اشاعت ثانی، صفی احمد، مرتب، British Aggression in Awadh (میرٹھ: ۱۹۶۹ء)۔

(۲۸) کمبل پوش،تاریخ یوسفی، ص ۵۳۔

(۲۹) تفصیل کے لیے دیکھیے: http://www.civitas.org.uk/pdf/Tocqueville_rr2.pdf اور

http://www.jstor.org/discover/10.2307/1404731?uid=2&uid=4&sid=21102887092081

(۳۰) محمد اکرام چغتائی، ص ۲۱۔۲۸۔

 

Author(s):

Najeeba Arif

Chairperson

Department of Urdu, International Islamic University, Islamabad

Pakistan

Details:

Type: Article
Volume: 89
Issue: 3
Language: Urdu
Id: 634e51781b5e9
Pages 61 - 86
Published October 30, 2014

Copyrights

Creative Commens International License
Creative Commons License
This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.