References
(۱) دیویندراسر۔ادب اور نفسیات۔دہلی:مکتبہٴ شاہراہ،۱۹۶۳ء،ص۱۲۴
(۲) عبدالرشید خان،ڈاکٹر۔اُردو افسانے میں جنس نگاری۔دہلی:ذکریٰ انٹرنیشنل پبلشرز،۲۰۱۰ء،ص ۱۳
(۳) سلیم اختر،ڈاکٹر۔تنقیدی اصطلاحات۔توضیحی لغت۔لاہور:سنگ ِ میل پبلی کیشنز،۲۰۱۱ء،ص۱۰۸
(۴) محبوب اعلیٰ قریشی،ڈاکٹر۔اُردو مثنویوں میں جنسی تلذذ۔دہلی:تخلیق کار پبلشرز،۱۹۹۳ء،ص ۱۶۳
(۵) سیفو کا تعلق یونان کے اُس خطے سے تھا ،جہاں” ای اولین “شاخ کے قبیلے آباد تھے۔یہ خطہ شمالی یونان میں تھا اوراِس کا مرکزجزیرہ ”لس بوس“ تھا۔یہاں عورتیں عوامی جلسوں میں آزادانہ طور پر شریک ہوتی تھیں اور معاشرتی امور ، فنون و ادب اور شعرو سخن کی محفلوں میں بھی اُن کی دل چسپی و انہماک مردوں سے کم نہ تھا۔دنیا کی قدیم تاریخ میں آزادیٴ نسواں کی ایسی مثال دوسری جگہوں پر شاید ہی ملتی ہو۔جزیرہ لس بوس کے اِسی آزادانہ ماحول میں سیفو نے جنس کو اپنی تخلیقات کا موضوع بنایا۔
(۶) اِن معلقات کی تعداد سات تھی،جنھیں سونے کے پانی کے ساتھ لکھ کر خانہ کعبہ کی دیوار کے ساتھ لٹکایا جاتا تھا۔ اِن معلقہ نگاروں میں شہزادہ امراوٴ القیس کا نام سر فہرست ہے، جو بہ ذاتِ خود ایک جنسی جنونی تھا،وہ عورتوں کے عُریاں جسم کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے کا بے حد شوقین تھا۔خاص طور پروہ اپنی چچا زاد بہن اورمحبوبہ عُنیزہ کے عُریاں جسم کو دیکھا کرتاتھا۔اُس کا معلقہ ۸۱ اشعار پر مبنی ایک طویل قصیدہ ہے،جس میں اُس نے اپنی محبوبہ عُنیزہ کے ساتھ ایسے نقشے کھینچے ہیں،جو انتہائی عریاں ، جنسیت سے بھرپور اور معاملہ بندی کی آخری حد ہیں۔
(۷) عبدالرشید خان،ڈاکٹر۔اُردو افسانے میں جنس نگاری۔ص۲۵
(۸) نظیر کبر آبادی کی تین نظمیں ”تجرد کے مزے“،”برہ کی کوک“اور”مزے کی باتیں“ اِس ضمن میں بہ طورِ نظیر پیش کی جا سکتی ہیں،جن میں جنس نگاری کا واضح رجحا ن ملتا ہے۔
(۹) سلیم اختر،ڈاکٹر۔تخلیق ،تخلیقی شخصیات اورتنقید۔لاہور:سنگ ِ میل پبلی کیشنز،۱۹۸۹ء،ص۴۷
(۱۰) آل احمد سرور۔نئے اور پرانے چراغ۔دہلی:حالی پبلشنگ ہاوٴس،۱۹۴۶ء،ص۲۲
(۱۱) ابولاعجاز حفیظ صدیقی۔کشافِ تنقیدی اصطلاحات۔اسلام آباد :مقتدرہ قومی زبان،۱۹۸۵ء،ص۱۲۳
(۱۲) شمس الرحمن فاروقی۔کئی چاند تھے سر آسماں۔کراچی:شہر زاد،۲۰۰۶ء،ص۷۶۷
(۱۳) شمس الرحمن فاروقی۔کئی چاند تھے سر آسماں۔ص۳۳۶
(۱۴) ایضاً،ص۲۲۰
(۱۵) ایضاً،ص۱۷۹،۱۸۰
(۱۶) وحید الرحمن خان،ڈاکٹر۔”وزیرخانم اور امراوٴ جان ادا:تقابلی مطالعہ“،مشمولہ اورینٹل کالج میگزین۔ لاہور ، جلد:۸۷ ، اکتوبر تا دسمبرے ۲۰۱۲ء، ص۱۵۹
(۱۷) شمس الرحمن فاروقی۔کئی چاند تھے سر آسماں۔ص۴۲۷
(۱۸) ایضاً،ص۱۹۳
(۱۹) ایضاً،ص۷۶۶
(۲۰) پال رسل۔سو مشہور ہم جنس پرست۔مترجمہ:یاسر جواد۔لاہور:نگارشات پبلشرز،۲۰۰۸ء،ص۱۹
(۲۱) شمس الرحمن فاروقی۔کئی چاند تھے سر آسماں۔ص۷۳۲
(۲۲) حیدر قریشی۔حاصلِ مطالعہ۔دہلی:ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوٴس،۲۰۰۸ء،ص۱۳۲
Author(s):
Muhammad Shahbaz
Lecturer in UrduGovt. Islamia College, Civil Lines, Lahore
Pakistan
- szgiccl@gmail.com
Details:
| Type: | Article |
| Volume: | 94 |
| Issue: | 1 |
| Language: | Urdu |
| Id: | 6278c47ad5d60 |
| Pages | 77 - 86 |
| Published | March 31, 2019 |
Copyrights
| Creative Commens International License |
|---|

This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.